Showing posts with label گل رابیل. Show all posts
Showing posts with label گل رابیل. Show all posts

Wednesday, 6 December 2023

تسکین روح کے لئے سامان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تسکینِ روح کے لیے سامانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"

میرے نبیؐ کا پہلا ثنأ خواں ہے میرا رب

قرآن سب سے پہلا تو دیوانِ نعت ہے

ذکرِ رسولِ پاکﷺ ہی ہوتا ہے جا بجا

ہر آئینے کے رُخ پہ ضیا بانِ نعت ہے

Sunday, 20 March 2022

اس دل کو مرے خانۂ ویراں کی طلب ہے

 اس دل کو مِرے خانۂ ویراں کی طلب ہے

ہاں مجھ کو مِرے قیسِ بیاباں کی طلب ہے

صحرا میں بھٹکتا ہے مِرا چاہنے والا

دنیا کو مِرے حُسنِ پریشاں کی طلب ہے

ہم بھی تو گزرتے رہے ہر دشتِ جنوں سے

مجنوں ہمیں بھی تیرے شبستاں کی طلب ہے

Saturday, 19 February 2022

راحتیں تم سے ہیں خوشیوں کا سویرا تم سے

 راحتیں تم سے ہیں خوشیوں کا سویرا تم سے

میری دنیا میں ہے ہر سمت اُجالا تم سے

بھول سکتی ہی نہیں میں یہ عنایات کبھی

جگمگاتا رہا ہر وقت نصیبا تم سے

تم سے منسوب ہے یہ میرے سُخن کا اعجاز

نظم تم سے ہے، مِری غزلوں کا تحفہ تم سے

Thursday, 25 November 2021

ہونا ہی چاہتا ہے کہانی کا اختتام

 ہونا ہی چاہتا ہے کہانی کا اختتام

دریا کی تند تیز روانی کا اختتام

کب تم مِٹاؤ گے مِری تنہائیوں کا دکھ

کب ہو گا میرے دردِ نہانی کا اختتام

جِتنا سمیٹنا ہے ہمیں تم سمیٹ لو

ہونے لگا ہے عہدِ جوانی کا اختتام

Tuesday, 23 November 2021

تو نے اس طور مری جان چھوا دروازہ

 تُو نے اس طور مِری جان چُھوا دروازہ

باغ و گلزار سے کمتر نہ رہا دروازہ

دل کی دہلیز پہ اشکوں کے ستارے ٹوٹے

اس نے دیکھا ہی نہ اس بار جلا دروازہ

اس کی آمد کے نشاں دیکھ نہ پائی اب تک

یہ الگ بات کہ سو بار کھلا دروازہ

Monday, 22 November 2021

جنون عشق کی غارت گری نہیں نکلی

 جنونِ عشق کی غارت گری نہیں نکلی

جو دل میں پھانس چُبھی تھی ابھی نہیں نکلی

ہزار بار تِرے در تلک رسائی ہوئی

ہمارے دل سے مگر بُزدلی نہیں نکلی

ڈٹا ہوا ہے اُسی ایک بات پر اب تک

دلِ خراب! تِری خود سری نہیں نکلی

Sunday, 21 November 2021

سکوت دشت کی وحشت سے کم نہیں لگتا

 سکوتِ دشت کی وحشت سے کم نہیں لگتا

فراقِ یار قیامت سے کم نہیں لگتا

جو انتظار میں تیرے گزار دیتی ہوں

وہ لمحہ لمحۂ اذیت سے کم نہیں لگتا

تِرے خیال کو دل سے لگائے رکھتی ہوں

کہ یہ بھی تیری محبت سے کم نہیں لگتا

منفرد سب سے مری طرز ہنر ہے جاناں

 منفرد سب سے مری طرزِ ہنر ہے جاناں

میرے لہجے میں محبت کا اثر ہے جاناں

میرے ہر شعر کے باطن میں اتر کر دیکھو

اس کا ہر مصرعۂ تر، مثلِ گہر جاناں

شہر کا شہر بصارت سے ہوا ہے محروم

ایک تُو ہی تُو یہاں اہلِ نظر ہے جاناں

Saturday, 20 November 2021

تجھے مانگنے کی ہے آرزو مرے ہونٹوں پہ یہ دعا رہے

 تجھے مانگنے کی ہے آرزو مِرے ہونٹوں پہ یہ دعا رہے

تُو مِرا رہے، تُو مِرا رہے، تُو مِرا رہے، تُو مِرا رہے

تُو مہک ہے کھلتے گلاب کی، تُو ہے یاد عہدِ شباب کی

تُو ہی روشنی ہے شہاب کی، تِرا حسن مثلِ صبا رہے

کوئی بھیگی بھیگی سی رات ہو، تِرے ہاتھ میں مِرا ہاتھ ہو

مِرے لب پہ ایک ہی بات ہو، تِرا میرا ساتھ سدا رہے