عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تسکینِ روح کے لیے سامانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
میرے نبیؐ کا پہلا ثنأ خواں ہے میرا رب
قرآن سب سے پہلا تو دیوانِ نعت ہے
ذکرِ رسولِ پاکﷺ ہی ہوتا ہے جا بجا
ہر آئینے کے رُخ پہ ضیا بانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تسکینِ روح کے لیے سامانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے"
میرے نبیؐ کا پہلا ثنأ خواں ہے میرا رب
قرآن سب سے پہلا تو دیوانِ نعت ہے
ذکرِ رسولِ پاکﷺ ہی ہوتا ہے جا بجا
ہر آئینے کے رُخ پہ ضیا بانِ نعت ہے
اس دل کو مِرے خانۂ ویراں کی طلب ہے
ہاں مجھ کو مِرے قیسِ بیاباں کی طلب ہے
صحرا میں بھٹکتا ہے مِرا چاہنے والا
دنیا کو مِرے حُسنِ پریشاں کی طلب ہے
ہم بھی تو گزرتے رہے ہر دشتِ جنوں سے
مجنوں ہمیں بھی تیرے شبستاں کی طلب ہے
راحتیں تم سے ہیں خوشیوں کا سویرا تم سے
میری دنیا میں ہے ہر سمت اُجالا تم سے
بھول سکتی ہی نہیں میں یہ عنایات کبھی
جگمگاتا رہا ہر وقت نصیبا تم سے
تم سے منسوب ہے یہ میرے سُخن کا اعجاز
نظم تم سے ہے، مِری غزلوں کا تحفہ تم سے
ہونا ہی چاہتا ہے کہانی کا اختتام
دریا کی تند تیز روانی کا اختتام
کب تم مِٹاؤ گے مِری تنہائیوں کا دکھ
کب ہو گا میرے دردِ نہانی کا اختتام
جِتنا سمیٹنا ہے ہمیں تم سمیٹ لو
ہونے لگا ہے عہدِ جوانی کا اختتام
تُو نے اس طور مِری جان چُھوا دروازہ
باغ و گلزار سے کمتر نہ رہا دروازہ
دل کی دہلیز پہ اشکوں کے ستارے ٹوٹے
اس نے دیکھا ہی نہ اس بار جلا دروازہ
اس کی آمد کے نشاں دیکھ نہ پائی اب تک
یہ الگ بات کہ سو بار کھلا دروازہ
جنونِ عشق کی غارت گری نہیں نکلی
جو دل میں پھانس چُبھی تھی ابھی نہیں نکلی
ہزار بار تِرے در تلک رسائی ہوئی
ہمارے دل سے مگر بُزدلی نہیں نکلی
ڈٹا ہوا ہے اُسی ایک بات پر اب تک
دلِ خراب! تِری خود سری نہیں نکلی
سکوتِ دشت کی وحشت سے کم نہیں لگتا
فراقِ یار قیامت سے کم نہیں لگتا
جو انتظار میں تیرے گزار دیتی ہوں
وہ لمحہ لمحۂ اذیت سے کم نہیں لگتا
تِرے خیال کو دل سے لگائے رکھتی ہوں
کہ یہ بھی تیری محبت سے کم نہیں لگتا
منفرد سب سے مری طرزِ ہنر ہے جاناں
میرے لہجے میں محبت کا اثر ہے جاناں
میرے ہر شعر کے باطن میں اتر کر دیکھو
اس کا ہر مصرعۂ تر، مثلِ گہر جاناں
شہر کا شہر بصارت سے ہوا ہے محروم
ایک تُو ہی تُو یہاں اہلِ نظر ہے جاناں
تجھے مانگنے کی ہے آرزو مِرے ہونٹوں پہ یہ دعا رہے
تُو مِرا رہے، تُو مِرا رہے، تُو مِرا رہے، تُو مِرا رہے
تُو مہک ہے کھلتے گلاب کی، تُو ہے یاد عہدِ شباب کی
تُو ہی روشنی ہے شہاب کی، تِرا حسن مثلِ صبا رہے
کوئی بھیگی بھیگی سی رات ہو، تِرے ہاتھ میں مِرا ہاتھ ہو
مِرے لب پہ ایک ہی بات ہو، تِرا میرا ساتھ سدا رہے