سکوتِ دشت کی وحشت سے کم نہیں لگتا
فراقِ یار قیامت سے کم نہیں لگتا
جو انتظار میں تیرے گزار دیتی ہوں
وہ لمحہ لمحۂ اذیت سے کم نہیں لگتا
تِرے خیال کو دل سے لگائے رکھتی ہوں
کہ یہ بھی تیری محبت سے کم نہیں لگتا
جو تیری یاد میں گرتا ہے میری پلکوں سے
وہ اشک تیری عنایت سے کم نہیں لگتا
زمین پہ میرے شریکِ سفر وجود ترا
خدائے پاک کی نعمت سے کم نہیں لگتا
جو روز تھپکیاں دے کر مجھے سلاتا ہے
وہ خواب مجھ کو حقیقت سے کم نہیں لگتا
نگاہِ بد سے بچائے خدا اِسے رابیل
یہ میرا گھر مجھے جنت سے کم نہیں لگتا
گل رابیل
No comments:
Post a Comment