جدائیوں میں ملن کے سراب اس کو ملے
جو اس نے مجھ کو دئیے تھے عذاب اس کو ملے
جو اس کے درد تھے سینے میں آ بسے میرے
جو میری آنکھ نے دیکھے تھے خواب اس کو ملے
بچھڑ کے اس سے ہر اک روز، روزِ محشر تھا
ملا تو ہجر کے سارے حساب اس کو ملے
سوال اس نے اٹھائے تھے کچھ وفا پہ مِری
ضمیر اس کا تھا، جس سے جواب اس کو ملے
سنا ہے اب تو وہ منکر ہے خود دعاؤں کا
وہ جس کے حرفِ دعا سے شباب اس کو ملے
یہی ہے عدل، یہی ہے صِلہ وفاؤں کا
مِرے نصیب میں پتھر، گلاب اس کو ملے
یہ اس کا عشق تھا، اس کی ہی داستاں تھی نعیم
پھر ایک بار گھڑا اور چناب اس کو ملے
نعیم جاوید
No comments:
Post a Comment