عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اظہارِ عقیدت میں بہت وقت گُزارا
حسّانؓ سے آگے نہ بڑھا شعر ہمارا
کونین کی ہر چند کہ دولت ملی اُنؐ کو
کیا شان تھی فاقوں پہ ہی ہوتا تھا گُزارا
قُدرت کی عطا معجزۂ شقِ قمر ہے
دو نِیم ہُوا چاند نے پایا جو اِشارا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اظہارِ عقیدت میں بہت وقت گُزارا
حسّانؓ سے آگے نہ بڑھا شعر ہمارا
کونین کی ہر چند کہ دولت ملی اُنؐ کو
کیا شان تھی فاقوں پہ ہی ہوتا تھا گُزارا
قُدرت کی عطا معجزۂ شقِ قمر ہے
دو نِیم ہُوا چاند نے پایا جو اِشارا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو مدح کر رہے ہیں رسالت مآبؐ کی
کب مانتے ہیں بات خُدا کی کتاب کی
ام الکتاب درس عمل جس نے دے دیا
دکهلائی راه جس نے عذاب و ثواب کی
سرچشمۂ حیات سمجهنے لگے اسے
سمجهی کہاں ہے اصلیت ہم نے سراب کی
اہل خانہ سو ر ہے ہیں اور گھر خاموش ہیں
بولتا ہے کون، اگر دیوار و در خاموش ہیں
رات جانے میری آنکھوں نے انہیں کیا کہہ دیا
جاگتے ہیں اور وہ وقتِ سحر خاموش ہیں
میرے فن کی عمر ہی کیا ہے جو ہو گا تبصرہ
اہلِ فن، اہلِ ہنر،اہلِ نظر خاموش ہیں
ایسے طاری تھا جنوں ہم پہ غزل خوانی کا
رقص زنجیر میں جیسے کسی زندانی کا
صاحبو! ہم سخنی چیزِ دِگر ہے، لیکن
ہم مآل اس کو سمجھتے ہیں پریشانی کا
آئینہ، گھر کو پلٹ آنے پہ یوں ملتا ہے
منتظر جیسے کوئی یار کسی جانی کا
روگ دل کو لگائے بیٹھا ہے
سامنے آئینے کے بیٹھا ہے
کوئی تجھ سا نہیں جہاں میں کیا
تُو جو ایسے اکیلے بیٹھا ہے
پشت دیوار سے لگائے ہوئے
گود میں تکیے رکھے بیٹھا ہے
دکھائی دیتی ہے ہر سو خوشی کی لہر ہمیں
کہا ہے جب سے کسی نے غریبِ شہر ہمیں
ذرا سی بات پہ ناراض ہم رہیں کتنا
گوارا یوں بھی کہاں سارے اہلِ دہر ہمیں
تِرے وجود کی خوشبو اڑا کے لائی ہیں
وہ ساعتیں جو کبھی لگ رہی تھیں زہر ہمیں
بِن پڑھے، بِن سُنے یقیں نہ کیا
لوگ کہتے رہے، یقیں نہ کیا
چاند کا عکس گہرے پانی میں
دیکھتے رہ گئے، یقیں نہ کیا
چل پڑے ہم تو طے ہوا رستا
ہیں ابھی فاصلے، یقیں نہ کیا
کیا بتائیں یار کیا کیا جل گیا
آگ میں جلنا تھا جتنا جل گیا
آگ پہلے سوکھے پتوں میں لگی
اور پھر جنگل گھنا سا جل گیا
کس قدر حِدت مِری خواہش میں تھی
ہاتھ میں آتے ہی پیسا جل گیا
یوں بظاہر مری کوتاہی نہیں ہے کوئی
سلسلہ دائمی ہوتا ہی نہیں ہے کوئی
پاؤں دھرنے کی طلب میں جو اضافہ کیجے
سر پٹکتے رہیں کہ جا ہی نہیں ہے کوئی
عکس پانی میں رہے یا کہ سرِ آئینہ
گویا مہتاب تو اونچا ہی نہیں ہے کوئی