Showing posts with label انور جاوید. Show all posts
Showing posts with label انور جاوید. Show all posts

Wednesday, 17 January 2024

اظہار عقیدت میں بہت وقت گزارا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اظہارِ عقیدت میں بہت وقت گُزارا

حسّانؓ سے آگے نہ بڑھا شعر ہمارا

کونین کی ہر چند کہ دولت ملی اُنؐ کو

کیا شان تھی فاقوں پہ ہی ہوتا تھا گُزارا

قُدرت کی عطا معجزۂ شقِ قمر ہے

دو نِیم ہُوا چاند نے پایا جو اِشارا

Sunday, 31 December 2023

جو مدح کر رہے ہیں رسالت مآب کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو مدح کر رہے ہیں رسالت مآبؐ کی

کب مانتے ہیں بات خُدا کی کتاب کی

ام الکتاب درس عمل جس نے دے دیا

دکهلائی راه جس نے عذاب و ثواب کی

سرچشمۂ حیات سمجهنے لگے اسے

سمجهی کہاں ہے اصلیت ہم نے سراب کی

Saturday, 6 November 2021

اہلِ خانہ سو ر ہے ہیں اور گھر خاموش ہیں

 اہل خانہ سو ر ہے ہیں اور گھر خاموش ہیں

بولتا ہے کون، اگر دیوار و در خاموش ہیں

رات جانے میری آنکھوں نے انہیں کیا کہہ دیا

جاگتے ہیں اور وہ وقتِ سحر خاموش ہیں

میرے فن کی عمر ہی کیا ہے جو ہو گا تبصرہ

اہلِ فن، اہلِ ہنر،اہلِ نظر خاموش ہیں

Friday, 8 January 2021

ایسے طاری تھا جنوں ہم پہ غزل خوانی کا

 ایسے طاری تھا جنوں ہم پہ غزل خوانی کا

رقص زنجیر میں جیسے کسی زندانی کا

صاحبو! ہم سخنی چیزِ دِگر ہے، لیکن

ہم مآل اس کو سمجھتے ہیں پریشانی کا

آئینہ، گھر کو پلٹ آنے پہ یوں ملتا ہے

منتظر جیسے کوئی یار کسی جانی کا

Thursday, 7 January 2021

روگ دل کو لگائے بیٹھا ہے

 روگ دل کو لگائے بیٹھا ہے

سامنے آئینے کے بیٹھا ہے

کوئی تجھ سا نہیں جہاں میں کیا

تُو جو ایسے اکیلے بیٹھا ہے

پشت دیوار سے لگائے ہوئے

گود میں تکیے رکھے بیٹھا ہے

Sunday, 3 January 2021

دکھائی دیتی ہے ہر سو خوشی کی لہر ہمیں

 دکھائی دیتی ہے ہر سو خوشی کی لہر ہمیں

کہا ہے جب سے کسی نے غریبِ شہر ہمیں

ذرا سی بات پہ ناراض ہم رہیں کتنا

گوارا یوں بھی کہاں سارے اہلِ دہر ہمیں

تِرے وجود کی خوشبو اڑا کے لائی ہیں

وہ ساعتیں جو کبھی لگ رہی تھیں زہر ہمیں

Saturday, 2 January 2021

بن پڑھے بن سنے یقیں نہ کیا

 بِن پڑھے، بِن سُنے یقیں نہ کیا

لوگ کہتے رہے، یقیں نہ کیا

چاند کا عکس گہرے پانی میں

دیکھتے رہ گئے، یقیں نہ کیا

چل پڑے ہم تو طے ہوا رستا

ہیں ابھی فاصلے، یقیں نہ کیا

Friday, 1 January 2021

کیا بتائیں یار کیا کیا جل گیا

 کیا بتائیں یار کیا کیا جل گیا

آگ میں جلنا تھا جتنا جل گیا

آگ پہلے سوکھے پتوں میں لگی

اور پھر جنگل گھنا سا جل گیا

کس قدر حِدت مِری خواہش میں تھی

ہاتھ میں آتے ہی پیسا جل گیا

Wednesday, 16 December 2020

یوں بظاہر مری کوتاہی نہیں ہے کوئی

 یوں بظاہر مری کوتاہی نہیں ہے کوئی

سلسلہ دائمی ہوتا ہی نہیں ہے کوئی

پاؤں دھرنے کی طلب میں جو اضافہ کیجے

سر پٹکتے رہیں کہ جا ہی نہیں ہے کوئی

عکس پانی میں رہے یا کہ سرِ آئینہ

گویا مہتاب تو اونچا ہی نہیں ہے کوئی