روگ دل کو لگائے بیٹھا ہے
سامنے آئینے کے بیٹھا ہے
کوئی تجھ سا نہیں جہاں میں کیا
تُو جو ایسے اکیلے بیٹھا ہے
پشت دیوار سے لگائے ہوئے
گود میں تکیے رکھے بیٹھا ہے
کل بھی بیٹھے گا کیا اسی کروٹ
آج کروٹ پہ جیسے بیٹھا ہے
دیدہ و دل کو فرشِ راہ کیے
آئیے، کہتے کہتے بیٹھا ہے
میں فقط سوچتا ہی رہتا ہوں
وہ تو پہلے سے لکھے بیٹھا ہے
انور جاوید ہاشمی
No comments:
Post a Comment