Thursday, 7 January 2021

روگ دل کو لگائے بیٹھا ہے

 روگ دل کو لگائے بیٹھا ہے

سامنے آئینے کے بیٹھا ہے

کوئی تجھ سا نہیں جہاں میں کیا

تُو جو ایسے اکیلے بیٹھا ہے

پشت دیوار سے لگائے ہوئے

گود میں تکیے رکھے بیٹھا ہے

کل بھی بیٹھے گا کیا اسی کروٹ

آج کروٹ پہ جیسے بیٹھا ہے

دیدہ و دل کو فرشِ راہ کیے

آئیے، کہتے کہتے بیٹھا ہے

میں فقط سوچتا ہی رہتا ہوں

وہ تو پہلے سے لکھے بیٹھا ہے


انور جاوید ہاشمی

No comments:

Post a Comment