ایسا نہ ہو آتے ہی چراغوں کو بجھا دے
ہر ہر کو مِرے شہر کے آداب سکھا دے
اس شہر سے آیا ہوں جہاں شب نہیں ڈھلتی
مجھ کو مِرے محسن کوئی سورج ہی دکھا دے
مٹی مِری شہ رگ کا لہو چاٹ رہی ہے
داروغۂ زنداں! مجھے قاتل کا پتا دے
اس خوف سے میں تیرا حوالہ نہیں دیتا
مجھ کو نہ تماشا تیرا بازار بنا دے
اس حال میں اتنا تو اسے اِذن دے ناطق
ہاتھوں کی لکیروں سے تِرا نام مٹا دے
ناطق جعفری
No comments:
Post a Comment