Showing posts with label منور خان غافل. Show all posts
Showing posts with label منور خان غافل. Show all posts

Thursday, 22 October 2020

یہ کون سا پروانہ موا جل کے لگن میں

 یہ کون سا پروانہ مؤا جل کے لگن میں

حیرت سے جو ہے شمع کی انگشت دہن میں

کہتے ہیں اسے چاہ زنخداں غلطی سے

بوسے کا نشاں ہے یہ ترے سیب ذقن میں

وہ آئینہ تن آئینہ پھر کس لیے دیکھے

جو دیکھ لے منہ اپنا ہر اک عضو بدن میں

Monday, 23 October 2017

ہر کوئی اس کا خریدار ہوا چاہتا ہے

ہر کوئی اس کا خریدار ہُوا چاہتا ہے 
گرم پھر حسن کا بازار ہوا چاہتا ہے 
دیکھ لینا غم معشوق میں کڑھتے کڑھتے 
کچھ نہ کچھ اب مجھے آزار ہوا چاہتا ہے 
آنکھ للچائی ہوئی پڑتی ہے جس پر میری 
عشق اس پر مرا اظہار ہوا چاہتا ہے 

مرتے دم او بے وفا دیکھا تجھے

مرتے دم او بے وفا! دیکھا تجھے 
اک نظر دیکھا تو کیا دیکھا تجھے 
اے پری رو! کیوں نہ میں دیوانہ ہوں 
بال کھولے بارہا دیکھا تجھے 
نکہت گل بھی نہ لائی تا قفس 
چل ہوا ہو اے صبا دیکھا تجھے 

کس طرح نالہ کرے بلبل چمن کی یاد میں

کس طرح نالہ کرے بلبل چمن کی یاد میں 
گھس گئی اس کی زباں تو شکوۂ صیاد میں 
داد خواہوں کی اگر پرسش ہوئی روز جزا 
سب سے پہلے آئیں گے ہم عرصۂ فریاد میں 
کیا لپٹ جائیں تِرا قامت سمجھ کر اس کو ہم 
یہ نزاکت یہ صباحت ہے کہاں شمشاد میں 

Sunday, 22 October 2017

نگاہ یار ہم سے آج بے تقصیر پھرتی ہے

نگاہِ یار ہم سے آج بے تقصیر پھرتی ہے 
کسی کی کچھ نہیں چلتی ہے جب تقدیر پھرتی ہے 
مرقع ہے مِری آنکھوں میں کیا یارانِ رفتہ کا 
جو نظروں کے تلے ہر ایک کی تصویر پھرتی ہے 
تِرا دیوانہ جب سے اٹھ گیا صحرائے وحشت سے 
بگولے کی طرح سے ڈھونڈھتی زنجیر پھرتی ہے 

وہ میرا درد دل کیا جانتے ہیں

وہ میرا درد دل کیا جانتے ہیں 
تڑپنے کو تماشا جانتے ہیں 
بہار گل ہے خار آنکھوں میں تجھ بن 
چمن کو ہم تو صحرا جانتے ہیں 
کہیں کیا حال دل اپنا بتوں سے 
جو ہے دل میں تمنا جانتے ہیں 

نہ پوچھ ہجر میں جو کچھ ہوا ہمارا حال

نہ پوچھ ہجر میں جو کچھ ہوا ہمارا حال 
جسے نہ عشق ہو وہ جانے کیا ہمارا حال 
یقین ہے کہ کہیں گے وہ ہم صفیروں سے 
قفس میں دیکھ گئی ہے صبا ہمارا حال 
عجب ہے اس کا جو اب تک نہیں سنا اس نے 
فسانۂ سر بازار تھا ہمارا حال 

Thursday, 19 October 2017

چھٹ پنے ہی میں یار آفت ہے

چھٹ پنے ہی میں یار آفت ہے
کچھ بڑھا قد تو پھر قیامت ہے
ایک دل جس پہ لاکھ آفت ہے
درد ہی داغ ہے، جراحت ہے
کر نہ غفلت میں تُو بسر اس کو
ایک دو دم کی یہ جو مہلت ہے

چمن کوچہ جاناں سے یہ کیا آتی ہے

چمن کوچۂ جاناں سے یہ کیا آتی ہے
ناز کرتی ہوئی جو بادِ صبا آتی ہے
لے کے پیغام زبانی جو چلا ہے قاصد
بات بگڑی ہوئی کیا اوس کو بنا آتی ہے
کس کے میں دستِ نگاریں کا ہوں زخمی یارب
ہر گلِ زخم سے جو بوۓ حنا آتی ہے

شانہ تو چھٹا زلف پریشاں سے الجھ کر

شانہ تو چھٹا زلفِ پریشاں سے الجھ کر 
سلجھا نہ یہ دل کاکلِ پیچاں سے الجھ کر 
لیتا ہے خبر کون اسیرانِ بلا کی 
مر مر گئے تاریکیٔ زنداں سے الجھ کر 
زوروں پہ چڑھا ہے یہ مِرا پنجۂ وحشت 
دامن سے الجھتا ہے گریباں سے الجھ کر 

Monday, 11 November 2013

آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد

آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی مِری جا میرے بعد
میان میں اس نے جو کی تیغِ جفا میرے بعد
خوں گرفتہ کوئی کیا اور نہ تھا میرے بعد
دوستی کا بھی تجھے پاس نہ آیا ہے ہے
تُو نے دشمن سے کیا میرا گلا میرے بعد