یہ کون سا پروانہ مؤا جل کے لگن میں
حیرت سے جو ہے شمع کی انگشت دہن میں
کہتے ہیں اسے چاہ زنخداں غلطی سے
بوسے کا نشاں ہے یہ ترے سیب ذقن میں
وہ آئینہ تن آئینہ پھر کس لیے دیکھے
جو دیکھ لے منہ اپنا ہر اک عضو بدن میں
یہ کون سا پروانہ مؤا جل کے لگن میں
حیرت سے جو ہے شمع کی انگشت دہن میں
کہتے ہیں اسے چاہ زنخداں غلطی سے
بوسے کا نشاں ہے یہ ترے سیب ذقن میں
وہ آئینہ تن آئینہ پھر کس لیے دیکھے
جو دیکھ لے منہ اپنا ہر اک عضو بدن میں