Showing posts with label شعیب نظام. Show all posts
Showing posts with label شعیب نظام. Show all posts

Wednesday, 5 July 2023

سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے

 سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے

کہ میرے پاؤں سے دریا لپٹنے والا ہے

اُٹھو کہ اب تو تمازت کا ذائقہ چکھ لیں

شجر کا سایہ شجر میں سمٹنے والا ہے

تو پھر یقین کی سرحد میں وار کر مجھ پر

گُماں کی دُھند میں جب تیر اُچٹنے والا ہے

Sunday, 12 December 2021

ابر کا ٹکڑا کوئی بالائے بام آتا ہوا

 ابر🌧 کا ٹکڑا کوئی بالائے بام آتا ہوا

میرے گھر بھی سبز موسم کا پیام آتا ہوا

دھوپ کی بجھتی تمازت کی سپر لیتا چلوں

پھر افق سے دھیرے دھیرے وقت شام آتا ہوا

پھر در دل پر ہوئی ہیں روشنی کی دستکیں

پھر ستارہ★ سا کوئی بالائے بام آتا ہوا

Saturday, 11 December 2021

نخل دعا کبھی جب دل کی زمیں سے نکلے

 نخلِ دعا کبھی جب دل کی زمیں سے نکلے

سائے بھی کچھ گماں کے برگ یقیں سے نکلے

نظریں جمائے رکھنا امید کے کھنڈر پر

ممکن ہے اب کے سورج اس کی جبیں سے نکلے

خود سے فرار اتنا آسان بھی نہیں ہے

سائے کریں گے پیچھا کوئی کہیں سے نکلے

Thursday, 9 December 2021

ٹوٹے ہوئے خوابوں کے طلبگار بھی آئے

 ٹوٹے ہوئے خوابوں کے طلبگار بھی آئے

اے جنسِ گراں! تیرے خریدار بھی آئے

مُدت ہوئی سنتے ہوئے تمہیدِ طلسمات

اب قصے میں آگے کوئی کردار بھی آئے

کیا ختم نہ ہو گی کبھی صحرا کی حکومت

رستے میں کہیں تو در و دیوار بھی آئے

Friday, 13 August 2021

ہوس کے بیج بدن جب سے دل میں بونے لگا

 ہوس کے بیج بدن جب سے دل میں بونے لگا

میں خود سے ملنے کے سارے جواز کھونے لگا

رفیقِ صبح تھا سورج سے رشتہ داری تھی

سپاہ شب میں یہ کس کا شمار ہونے لگا

عجیب منظرِ آخر تھا بُجھتی آنکھوں میں

وہ مجھ کو مار کے بے اختیار رونے لگا

Monday, 26 July 2021

خوشی میں غم ملا لیتے ہیں تھوڑا

 خوشی میں غم ملا لیتے ہیں تھوڑا

یہ سرمایہ بڑھا لیتے ہیں تھوڑا

نظر آتے ہیں جب اطراف چھوٹے

ہم اپنا قد گھٹا لیتے ہیں تھوڑا

ہے اندر روشنی، باہر اندھیرا

سو دونوں کو ملا لیتے ہیں تھوڑا