سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے
کہ میرے پاؤں سے دریا لپٹنے والا ہے
اُٹھو کہ اب تو تمازت کا ذائقہ چکھ لیں
شجر کا سایہ شجر میں سمٹنے والا ہے
تو پھر یقین کی سرحد میں وار کر مجھ پر
گُماں کی دُھند میں جب تیر اُچٹنے والا ہے
سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے
کہ میرے پاؤں سے دریا لپٹنے والا ہے
اُٹھو کہ اب تو تمازت کا ذائقہ چکھ لیں
شجر کا سایہ شجر میں سمٹنے والا ہے
تو پھر یقین کی سرحد میں وار کر مجھ پر
گُماں کی دُھند میں جب تیر اُچٹنے والا ہے
ابر🌧 کا ٹکڑا کوئی بالائے بام آتا ہوا
میرے گھر بھی سبز موسم کا پیام آتا ہوا
دھوپ کی بجھتی تمازت کی سپر لیتا چلوں
پھر افق سے دھیرے دھیرے وقت شام آتا ہوا
پھر در دل پر ہوئی ہیں روشنی کی دستکیں
پھر ستارہ★ سا کوئی بالائے بام آتا ہوا
نخلِ دعا کبھی جب دل کی زمیں سے نکلے
سائے بھی کچھ گماں کے برگ یقیں سے نکلے
نظریں جمائے رکھنا امید کے کھنڈر پر
ممکن ہے اب کے سورج اس کی جبیں سے نکلے
خود سے فرار اتنا آسان بھی نہیں ہے
سائے کریں گے پیچھا کوئی کہیں سے نکلے
ٹوٹے ہوئے خوابوں کے طلبگار بھی آئے
اے جنسِ گراں! تیرے خریدار بھی آئے
مُدت ہوئی سنتے ہوئے تمہیدِ طلسمات
اب قصے میں آگے کوئی کردار بھی آئے
کیا ختم نہ ہو گی کبھی صحرا کی حکومت
رستے میں کہیں تو در و دیوار بھی آئے
ہوس کے بیج بدن جب سے دل میں بونے لگا
میں خود سے ملنے کے سارے جواز کھونے لگا
رفیقِ صبح تھا سورج سے رشتہ داری تھی
سپاہ شب میں یہ کس کا شمار ہونے لگا
عجیب منظرِ آخر تھا بُجھتی آنکھوں میں
وہ مجھ کو مار کے بے اختیار رونے لگا
خوشی میں غم ملا لیتے ہیں تھوڑا
یہ سرمایہ بڑھا لیتے ہیں تھوڑا
نظر آتے ہیں جب اطراف چھوٹے
ہم اپنا قد گھٹا لیتے ہیں تھوڑا
ہے اندر روشنی، باہر اندھیرا
سو دونوں کو ملا لیتے ہیں تھوڑا