Wednesday, 5 July 2023

سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے

 سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے

کہ میرے پاؤں سے دریا لپٹنے والا ہے

اُٹھو کہ اب تو تمازت کا ذائقہ چکھ لیں

شجر کا سایہ شجر میں سمٹنے والا ہے

تو پھر یقین کی سرحد میں وار کر مجھ پر

گُماں کی دُھند میں جب تیر اُچٹنے والا ہے

تُو اتنا جس کی ضیا باریوں پہ نازاں ہے

غُبارِ شب سے وہ چہرہ بھی اٹنے والا ہے

یہ ایک سایہ غنیمت ہے روک لو ورنہ

یہ روشنی کے بدن سے لپٹنے والا ہے


شعیب نظام

No comments:

Post a Comment