کبھی رفُو کے لیے اور کبھی کشاں کے لیے
ملا ہوں سارے طبیبوں سے اپنے ٹانکے لیے
یہ جانتا ہوں فقط موت ہے مِری منزل
تڑپ رہا ہوں مگر میں کہاں کہاں کے لیے
سو ایکتا نے بچایا ہوا ہے مجھ تجھ کو
سِناں کماں کے لیے ہے کماں سِناں کے لیے
وہی تو سوچیں گے آئندگان میرے لیے
جو بات سوچتا رہتا ہوں رفتگاں کے لیے
ظہور! یار تو با احمقاں نیاز مکن
"جہاں ہے تیرے لیے تُو نہیں جہاں کے لیے"
ظہور منہاس
No comments:
Post a Comment