Showing posts with label جاوید انور. Show all posts
Showing posts with label جاوید انور. Show all posts

Thursday, 9 March 2023

گھر کی دہلیز پر میری ماں

 متبادل


عام سی شام ہو

لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں

گھر کی دہلیز پر میری ماں 

مسکراتے ہوئے میرے گزرے دنوں کی تھکن چوم لے

شام کی سرحدوں سے مؤذن پکارے تو

Tuesday, 3 May 2022

ہوا چلے گی مگر ستارا نہیں چلے گا

 ہوا چلے گی مگر ستارا نہیں چلے گا

سمندروں میں ترا اشارا نہیں چلے گا

یہی رہیں گے یہ در یہ گلیاں یہی رہیں گی

تمہی چلو گے کوئی نظارا نہیں چلے گا

شب سفر ہے ہتھیلیوں پر بھنور اگیں گے

تمہارے ہمراہ اب کنارا نہیں چلے گا

Tuesday, 8 February 2022

قسم ہے ڈوبتے دن کی خسارہ ہی خسارہ ہے

 قسم ہے ڈوبتے دن کی


قسم ہے ڈوبتے دن کی

خسارہ ہی خسارہ ہے

تِرے جُوڑے کی کلیاں‌ پاوں ‌کی مٹی

مِرا کالر، دھوئیں کا استعارہ ہے

Thursday, 20 January 2022

ادھوری لڑکیو چلی آؤ کہ عمریں رائیگاں ہونے سے

 ادھوری لڑکیو

تم اپنے کمروں میں پرانے سال کے بوسیدہ کیلنڈر 

سجا کر سوچتی ہو

یہ بدن عمروں کی سازش میں نہ آئیں گے

تمہیں کس نے بتایا ہے

گھڑی کی سوئیوں کو روکنے سے دوڑتا 

Saturday, 7 August 2021

مہیب رات کے گنجان پانیوں سے نکل

 مہیب رات کے گنجان پانیوں سے نکل

نئی سحر کے ستارے تو چمنیوں سے نکل

ہر ایک حد سے پرے اپنا بوریا لے جا

بدی کا نام نہ لے اور نیکیوں سے نکل

اے میرے مہر تُو اس کی چھتوں پہ آخر ہو

اے میرے ماہ تُو آج اس کی کھڑکیوں سے نکل

Friday, 23 April 2021

کوئی کہانی کوئی واقعہ سنا تو سہی

 کوئی کہانی کوئی واقعہ سنا تو سہی

اگر ہنسا نہیں سکتا مجھے رُلا تو سہی

کسی کے ہجر کا چھلا کسی وصال کی چھاپ

بچھڑ کے مجھ سے تجھے کیا مِلا دِکھا تو سہی

کبھی بلا تو سہی اپنے آستانے پر

مجھے بھی اپنا کوئی معجزہ دکھا تو سہی

Monday, 15 March 2021

ہم کہ ہیرو نہیں ولن بھی نہیں

 ہم کہ ہیرو نہیں


ہم خزاں کی حدود سے چل کر

خود بہاروں کی کوکھ تک آئے

ہم کو فٹ پاتھ پر حیات ملی

ہم پتنگوں پہ لیٹ کر روئے

سورجوں نے ہمارے ہونٹوں پر

اپنے ہونٹوں کا شہد ٹپکایا

Thursday, 7 January 2021

اپنے وقت سے کٹی ہوئی ایک ساعت

 اپنے وقت سے کٹی ہوئی ایک ساعت


تم بھی، تم جو میرے طبیب بنے پھرتے تھے

تم بھی

وہ بھی، وہ جو میرے حبیب بنے پھرتے تھے

وہ بھی

سارے آؤ

دیکھو

Wednesday, 6 January 2021

میں اک نظم لکھوں گا لیکن سنانے نہیں آؤں گا

 نظم جو کبھی لکھی جائے گی


میں اک نظم لکھوں گا، لیکن سنانے نہیں آؤں گا

وہ بہت خوبصورت، بہت چنچلی اور غنائت سے بھرپور ہو گی

مگر میں سنانے نہیں آؤں گا

نہ گرجے کی گھنٹی

نہ کلمہ شہادت

نہ تابوت ہو گا

Sunday, 3 January 2021

جانے والا آسمان کا تارا بن جاتا ہے

 نظم


جانے والا

آسمان کا تارا بن جاتا ہے

اور ہم اس سے

روز رات کو مل سکتے ہیں


جاوید انور

Friday, 1 January 2021

چلو اک عہد کرتے ہیں

 عہدِ سالِ نو


چلو اک عہد کرتے ہیں

پرانے سال کو جب

ضعف سے لرزیدہ و رنجور پا کر

ڈوبتے خوں رنگ منظر میں

ڈبو دیں گے

Friday, 25 December 2020

ضبط کی کھڑکیاں کھول دو

 اپاہج دنوں کی ندامت

کھڑکیاں کھول دو

ضبط کی کھڑکیاں کھول دو

میں کھِلوں جون کی دوپہر میں

دسمبر کی شب میں

سبھی موسموں کے کٹہرے میں اپنی نفی کا میں اثبات بن کر کھِلوں

Friday, 11 December 2020

یہاں سے آگے وہ راستہ ہے

 نوزائیدہ سے خطاب


یہاں سے آگے وہ راستہ ہے

کہ جس کی دہشت سے خود خداوند جاگتے ہیں

چھپے ہوئے ہیں

پڑے ہوئے ہیں کسی ازل آشنا کھنڈر میں

فلک بچھائے

سحاب اوڑھے