متبادل
عام سی شام ہو
لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں
گھر کی دہلیز پر میری ماں
مسکراتے ہوئے میرے گزرے دنوں کی تھکن چوم لے
شام کی سرحدوں سے مؤذن پکارے تو
متبادل
عام سی شام ہو
لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں
گھر کی دہلیز پر میری ماں
مسکراتے ہوئے میرے گزرے دنوں کی تھکن چوم لے
شام کی سرحدوں سے مؤذن پکارے تو
ہوا چلے گی مگر ستارا نہیں چلے گا
سمندروں میں ترا اشارا نہیں چلے گا
یہی رہیں گے یہ در یہ گلیاں یہی رہیں گی
تمہی چلو گے کوئی نظارا نہیں چلے گا
شب سفر ہے ہتھیلیوں پر بھنور اگیں گے
تمہارے ہمراہ اب کنارا نہیں چلے گا
قسم ہے ڈوبتے دن کی
قسم ہے ڈوبتے دن کی
خسارہ ہی خسارہ ہے
تِرے جُوڑے کی کلیاں پاوں کی مٹی
مِرا کالر، دھوئیں کا استعارہ ہے
ادھوری لڑکیو
تم اپنے کمروں میں پرانے سال کے بوسیدہ کیلنڈر
سجا کر سوچتی ہو
یہ بدن عمروں کی سازش میں نہ آئیں گے
تمہیں کس نے بتایا ہے
گھڑی کی سوئیوں کو روکنے سے دوڑتا
مہیب رات کے گنجان پانیوں سے نکل
نئی سحر کے ستارے تو چمنیوں سے نکل
ہر ایک حد سے پرے اپنا بوریا لے جا
بدی کا نام نہ لے اور نیکیوں سے نکل
اے میرے مہر تُو اس کی چھتوں پہ آخر ہو
اے میرے ماہ تُو آج اس کی کھڑکیوں سے نکل
کوئی کہانی کوئی واقعہ سنا تو سہی
اگر ہنسا نہیں سکتا مجھے رُلا تو سہی
کسی کے ہجر کا چھلا کسی وصال کی چھاپ
بچھڑ کے مجھ سے تجھے کیا مِلا دِکھا تو سہی
کبھی بلا تو سہی اپنے آستانے پر
مجھے بھی اپنا کوئی معجزہ دکھا تو سہی
ہم کہ ہیرو نہیں
ہم خزاں کی حدود سے چل کر
خود بہاروں کی کوکھ تک آئے
ہم کو فٹ پاتھ پر حیات ملی
ہم پتنگوں پہ لیٹ کر روئے
سورجوں نے ہمارے ہونٹوں پر
اپنے ہونٹوں کا شہد ٹپکایا
اپنے وقت سے کٹی ہوئی ایک ساعت
تم بھی، تم جو میرے طبیب بنے پھرتے تھے
تم بھی
وہ بھی، وہ جو میرے حبیب بنے پھرتے تھے
وہ بھی
سارے آؤ
دیکھو
نظم جو کبھی لکھی جائے گی
میں اک نظم لکھوں گا، لیکن سنانے نہیں آؤں گا
وہ بہت خوبصورت، بہت چنچلی اور غنائت سے بھرپور ہو گی
مگر میں سنانے نہیں آؤں گا
نہ گرجے کی گھنٹی
نہ کلمہ شہادت
نہ تابوت ہو گا
نظم
جانے والا
آسمان کا تارا بن جاتا ہے
اور ہم اس سے
روز رات کو مل سکتے ہیں
جاوید انور
عہدِ سالِ نو
چلو اک عہد کرتے ہیں
پرانے سال کو جب
ضعف سے لرزیدہ و رنجور پا کر
ڈوبتے خوں رنگ منظر میں
ڈبو دیں گے
اپاہج دنوں کی ندامت
کھڑکیاں کھول دو
ضبط کی کھڑکیاں کھول دو
میں کھِلوں جون کی دوپہر میں
دسمبر کی شب میں
سبھی موسموں کے کٹہرے میں اپنی نفی کا میں اثبات بن کر کھِلوں
نوزائیدہ سے خطاب
یہاں سے آگے وہ راستہ ہے
کہ جس کی دہشت سے خود خداوند جاگتے ہیں
چھپے ہوئے ہیں
پڑے ہوئے ہیں کسی ازل آشنا کھنڈر میں
فلک بچھائے
سحاب اوڑھے