قسم ہے ڈوبتے دن کی
قسم ہے ڈوبتے دن کی
خسارہ ہی خسارہ ہے
تِرے جُوڑے کی کلیاں پاوں کی مٹی
مِرا کالر، دھوئیں کا استعارہ ہے
تنی گردن، کسا سینہ
کسی جھُلسی ہوئی ٹہنی کی صورت
گھر کو لوٹے ہیں
تو لگتا ہے
کہ ہم نے دن نہیں جیسے
ہمیں دن نے گزارا ہے
کہ وہ مطلع ہمارا تھا
نہ یہ مقطع ہمارا ہے
قسم ہے ڈوبتے دن کی
خسارہ ہی خسارہ ہے
جاوید انور
No comments:
Post a Comment