Tuesday, 8 February 2022

قسم ہے ڈوبتے دن کی خسارہ ہی خسارہ ہے

 قسم ہے ڈوبتے دن کی


قسم ہے ڈوبتے دن کی

خسارہ ہی خسارہ ہے

تِرے جُوڑے کی کلیاں‌ پاوں ‌کی مٹی

مِرا کالر، دھوئیں کا استعارہ ہے

تنی گردن، کسا سینہ

کسی جھُلسی ہوئی ٹہنی کی صورت 

گھر کو لوٹے ہیں‌

تو لگتا ہے

کہ ہم نے دن نہیں جیسے

ہمیں دن نے گزارا ہے

کہ وہ مطلع ہمارا تھا

نہ یہ مقطع ہمارا ہے

قسم ہے ڈوبتے دن کی

خسارہ ہی خسارہ ہے


جاوید انور

No comments:

Post a Comment