کیسا رشتہ ہے نارسائی کا
بھائی دشمن بناہے بھائی کا
سرپہ حفظ و امان ہے صدقہ
میرے والد کی پارسائی کا
آج تک ہم سمجھ نہیں پائے
کیا سبب ہے تری جدائی کا
ظلم کا خاتمہ بھی ممکن ہے
فیصلہ ہو اگر اکائی کا
ہم بکھرنے نہ دیں گے شیرازہ
اپنے اسلاف کی کمائی کا
پہلے لوہا ہمارا تھا ہتھیار
آج فیشن ہے یہ کلائی کا
ہے وتیرہ محبتوں کا رئیس
دل میں گوشہ نہیں قصائی کا
رئیس احمد
No comments:
Post a Comment