Tuesday, 8 February 2022

موج فراق آئے گی اک امتحاں کے ساتھ

 موجِ فراق آئے گی اک امتحاں کے ساتھ

حرفِ دعا قبول ہوئی آسماں کے ساتھ

صد حیف اس کی آنکھ میں تصویر بن گئی

جس کو پکارا جانا تھا ہفت آسماں کے ساتھ

دہشت جنونِ شوق محبت فریب کو

لایا ہوں کھینچ تان کے کارِ فغاں کے ساتھ

لاشہ ہے کس جوان کا کچھ تو بتائیے

رکھا ہے کس حریف نے سود و زیاں کے ساتھ

میں بھی ندیم زلفِ پریشاں کو دیکھ کر

لایا ہوں آسماں کو چھپا کر گماں کے ساتھ


ندیم ملک

No comments:

Post a Comment