Tuesday, 8 February 2022

قدم قدم پر کی رسوائی پھسلا ہر اک زینے پر

 قدم قدم پر کی رسوائی پھسلا ہر اک زینے پر

پریم کمار نظر جی بھیجو لعنت بدن کمینے پر

اپنی بھی مشکل حل کر لو اس کا بھی کلیان کرو

اس کا راز اسی کو سونپو بوجھ نہ رکھو سینے پر

نیلے گرم سمندر سے تو ڈر کر کوسوں بھاگو ہو

ریت میں چپو مار کے خوش ہو حیف تمہارے جینے پر

اپنے اندر باہر؛ جم جم پھیلے مشک نصیبو دی

چادر کا اجلا پن بھولو عطر نہ چھڑکو پسینے پر

تم کو کیا معلوم عذاب جسم کو کیسے جھیلتے ہیں

اک دو دن میں کام بناؤ بات نہ ٹالو مہینے پر


پریم کمار نظر

No comments:

Post a Comment