صحرا کو دھول، دھول کو صحرا نِگل گیا
اور مجھ کو دردِ یار کا سایہ نگل گیا
بیٹے کو کھا گیا ہوسِ عیش کا قرار
اور بوڑھے باپ کو یہاں بیٹا نگل گیا
کھایا غریبِ شہر نے اک لقمۂ حلال
دھنوان جبکہ ساری ہی دنیا نگل گیا
صحرا کو دھول، دھول کو صحرا نِگل گیا
اور مجھ کو دردِ یار کا سایہ نگل گیا
بیٹے کو کھا گیا ہوسِ عیش کا قرار
اور بوڑھے باپ کو یہاں بیٹا نگل گیا
کھایا غریبِ شہر نے اک لقمۂ حلال
دھنوان جبکہ ساری ہی دنیا نگل گیا
کسی بھی چیز کو محدود کر کے دیکھتے ہیں
نگاہِ ناز کو محمود کر کے دیکھتے ہیں
یہی کہا تھا نہ اِبلیس نے بھی وقتِ سجود
ہم اپنے آپ کو مردود کر کے دیکھتے ہیں
چلو کہ کاٹتے ہیں کِشتِ جاں سے رنج و الم
رہِ حیات کو مسدود کر کے دیکھتے ہیں
پوشیدہ زخم زخم جو نشتر میں لے چلے
ہم بھی خیالِ یار کو محشر میں لے چلے
ہم چل پڑے ہیں جانبِ منزل، اسی لیے
اپنے سروں کو طشتِ مقدر میں لے چلے
در در کی ٹھوکروں سے ہُوا فائدہ یہی
دیوار اپنی کھینچ کے ہم در میں لے چلے
یہ کیسا مُعمہ ہے میں کس حال میں پہنچا
اترا جو زمیں پر تو میں اک جال میں پہنچا
جس خال کے صدقے ہے زمیں کیا، یہ زمن کیا
نکلا جو میں خط سے تو اسی خال میں پہنچا
ظلمت کدۂ عشق میں رہ کس کو ملی ہے
جو آیا، وہی درد کے پاتال میں پہنچا
جو شخص نازِ حُسنِ جوانی میں آ گِرا
سمجھو کہ وہ بھی نقل مکانی میں آ گرا
اُترا فراز سے تو لگا اس طرح مجھے
دشتِ نشیب کی میں گِرانی میں آ گرا
بچپن میں سنگ جو کہ اُٹھایا تھا ہاتھ میں
وہ سنگ جُوئے زورِ جوانی میں آ گرا