Showing posts with label دامن انصاری. Show all posts
Showing posts with label دامن انصاری. Show all posts

Friday, 16 January 2026

صحرا کو دھول دھول کو صحرا نگل گیا

 صحرا کو دھول، دھول کو صحرا نِگل گیا

اور مجھ کو دردِ یار کا سایہ نگل گیا

بیٹے کو کھا گیا ہوسِ عیش کا قرار

اور بوڑھے باپ کو یہاں بیٹا نگل گیا

کھایا غریبِ شہر نے اک لقمۂ حلال

دھنوان جبکہ ساری ہی دنیا نگل گیا

Saturday, 5 July 2025

کسی بھی چیز کو محدود کر کے دیکھتے ہیں

 کسی بھی چیز کو محدود کر کے دیکھتے ہیں

نگاہِ ناز کو محمود کر کے دیکھتے ہیں

یہی کہا تھا نہ اِبلیس نے بھی وقتِ سجود

ہم اپنے آپ کو مردود کر کے دیکھتے ہیں

چلو کہ کاٹتے ہیں کِشتِ جاں سے رنج و الم

رہِ حیات کو مسدود کر کے دیکھتے ہیں

Saturday, 28 June 2025

پوشیدہ زخم زخم جو نشتر میں لے چلے

 پوشیدہ زخم زخم جو نشتر میں لے چلے

ہم بھی خیالِ یار کو محشر میں لے چلے

ہم چل پڑے ہیں جانبِ منزل، اسی لیے

اپنے سروں کو طشتِ مقدر میں لے چلے

در در کی ٹھوکروں سے ہُوا فائدہ یہی

دیوار اپنی کھینچ کے ہم در میں لے چلے

Monday, 27 May 2024

یہ کیسا معمہ ہے میں کس حال میں پہنچا

 یہ کیسا مُعمہ ہے میں کس حال میں پہنچا

اترا جو زمیں پر تو میں اک جال میں پہنچا

جس خال کے صدقے ہے زمیں کیا، یہ زمن کیا

نکلا جو میں خط سے تو اسی خال میں پہنچا

ظلمت کدۂ عشق میں رہ کس کو ملی ہے

جو آیا، وہی درد کے پاتال میں پہنچا

Sunday, 26 May 2024

جو شخص ناز حسن جوانی میں آ گرا

 جو شخص نازِ حُسنِ جوانی میں آ گِرا

سمجھو کہ وہ بھی نقل مکانی میں آ گرا

اُترا فراز سے تو لگا اس طرح مجھے

دشتِ نشیب کی میں گِرانی میں آ گرا

بچپن میں سنگ جو کہ اُٹھایا تھا ہاتھ میں

وہ سنگ جُوئے زورِ جوانی میں آ گرا