واقفِ راز ہے اِمکان کی حد جانتا ہے
عِشق کب زہرہ جبِینوں کو سند جانتا ہے
یہ غمِ یار ہے، بھٹکا ہُوا راہی نہ سمجھ
بھانپ لیتا ہے طلب، جائے رسد جانتا ہے
وقت کے پاس کہاں وقت کہ دو پل ٹھہرے
چلتے رہنا ہے اسے، تا بہ ابد جانتا ہے
واقفِ راز ہے اِمکان کی حد جانتا ہے
عِشق کب زہرہ جبِینوں کو سند جانتا ہے
یہ غمِ یار ہے، بھٹکا ہُوا راہی نہ سمجھ
بھانپ لیتا ہے طلب، جائے رسد جانتا ہے
وقت کے پاس کہاں وقت کہ دو پل ٹھہرے
چلتے رہنا ہے اسے، تا بہ ابد جانتا ہے
کب تلک دوریاں سہی جائیں
دستکیں آسماں پہ دی جائیں
کچھ دُعائیں سفر پہ جانے کی
مُنجمد پانیوں کو دی جائیں
ہجر کے نیلگوں سمندر سے
یاد کی سِیپیاں چُنی جائیں