Showing posts with label رضوان بابر. Show all posts
Showing posts with label رضوان بابر. Show all posts

Monday, 26 October 2026

عشق کب زہرہ جبینوں کو سند جانتا ہے

 واقفِ راز ہے اِمکان کی حد جانتا ہے

عِشق کب زہرہ جبِینوں کو سند جانتا ہے

یہ غمِ یار ہے، بھٹکا ہُوا راہی نہ سمجھ

بھانپ لیتا ہے طلب، جائے رسد جانتا ہے

وقت کے پاس کہاں وقت کہ دو پل ٹھہرے

چلتے رہنا ہے اسے، تا بہ ابد جانتا ہے

Wednesday, 20 April 2022

کب تلک دوریاں سہی جائیں

کب تلک دوریاں سہی جائیں

دستکیں آسماں پہ دی جائیں

کچھ دُعائیں سفر پہ جانے کی

مُنجمد پانیوں کو دی جائیں

ہجر کے نیلگوں سمندر سے

یاد کی سِیپیاں چُنی جائیں