Tuesday, 13 October 2026

یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے

 یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے 

عجیب خواب سا دیکھا تھا کچھ دنوں پہلے 

یہ کیا ہوا کہ اب اپنا بھی اعتبار نہیں 

ہمیں تو سب کا بھروسا تھا کچھ دنوں پہلے 

ہمارے خون رگ جاں کی لالہ کاری سے 

جو آج باغ ہے صحرا تھا کچھ دنوں پہلے 

اسی افق سے نیا آفتاب ابھرے گا 

جہاں چراغ جلایا تھا کچھ دنوں پہلے 

ابھی قریب سے گزرا ہے اجنبی کی طرح 

وہ ایک شخص جو اپنا تھا کچھ دنوں پہلے 

جنہیں دریدہ دہن کہہ کے ہونٹ سیتے ہو 

انہیں سخن کا سلیقہ تھا کچھ دنوں پہلے 


سعید الزماں عباسی

No comments:

Post a Comment