عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
والفجر چاندنی کا ہے آنچل لیے ہوئے
والتّین ڈالی دینے کو ہے پھل لیے ہوئے
واللیل بہر چشم ہے کاجل لیے ہوئے
والشّمس آگے آگے ہے مشعل لیے ہوئے
والفتح خوش ہے دیکھ کے حسنِ شباب کو
والعادیات تھامے ہوئے ہے رکاب کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
والفجر چاندنی کا ہے آنچل لیے ہوئے
والتّین ڈالی دینے کو ہے پھل لیے ہوئے
واللیل بہر چشم ہے کاجل لیے ہوئے
والشّمس آگے آگے ہے مشعل لیے ہوئے
والفتح خوش ہے دیکھ کے حسنِ شباب کو
والعادیات تھامے ہوئے ہے رکاب کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عُمر بھر چھائی رہی سر پہ اسیری کی گھٹا
قید خانے میں جوانی بھی بڑھاپا بھی کٹا
مرتے مرتے غم و اندوہ کا بادل نہ چھٹا
بیڑیاں پاؤں سے اور طوق گلے سے نہ ہٹا
قید ہی میں غمِ ہستی سے یہ آزاد ہوئے
اس شرف میں شرفِ سیّدِ سجادؑ ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مسند نشینِ بزمِ طہارت ہیں فاطمہؑ
دُر یتیم، تاجِ شفاعت ہیں فاطمہؑ
نفس نفیس جسمِ رسالتؐ ہیں فاطمہؑ
اصلِ اصول نخلِ امامت ہیں فاطمہؑ
بچے بھی ان کے فخر خلیلؑ و ذبیحؑ ہیں
جھولے میں دونوں لال کلیم و مسیح ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
تمام خلق کا خدمت گزار ہے پانی
رگوں میں خون بدن میں نکھار ہے پانی
گلوں میں حسن چمن میں بہار ہے پانی
نمو کی بزم میں پروردگار ہے پانی
نگاہ خلق سے غائب جو ہے فضاؤں میں
امام غیب کا بھرتا ہے دم ہواؤں میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مُصحفِ منزلِ یٰسینِ مُبیں ہیں سجادؑ
خِضَرِ وادئ عرفان و یقیں ہیں سجادؑ
خاتمِ صبر و تحمّل کے نگیں ہیں سجادؑ
چار معصوموں کے سجادہ نشیں ہیں سجادؑ
خلق میں جیسے علیؑ ہیں شۂ لولاک کے بعد
ہو بہو ایسے ہیں یہ پنجتنِ پاک کے بعد