سرائے دار کا اتنا کوئی اُدھار نہ تھا
مگر وہ خواب مجھے یوں بھی سازگار نہ تھا
مِری شعاع اندھیرے میں کام آئی مجھے
مِرا کسی کے چراغوں پہ انحصار نہ تھا
تمہارے واسطے وہ کام بھی کیے میں نے
وہ کام جن پہ مِرا کوئی اختیار نہ تھا
سرائے دار کا اتنا کوئی اُدھار نہ تھا
مگر وہ خواب مجھے یوں بھی سازگار نہ تھا
مِری شعاع اندھیرے میں کام آئی مجھے
مِرا کسی کے چراغوں پہ انحصار نہ تھا
تمہارے واسطے وہ کام بھی کیے میں نے
وہ کام جن پہ مِرا کوئی اختیار نہ تھا
عشق صحرا میں وہ آداب سکھا دیتا ہے
راستہ آپ ہی منزل کا پتا دیتا ہے
ساتویں سمت کہیں آپ کے ہونے کا گماں
دشتِ امکاں میں نئے پھول کِھلا دیتا ہے
خالی کاسے کی طرف دیکھ کے ہنسنے والو
یہ فقیر آپ کو جینے کی دعا دیتا ہے
نیند مشکل سے فقط ایک گھڑی رہتی ہے
پھر مِری آنکھ میں خوابوں کی لڑی رہتی ہے
دل وہ صحرا ہے جہاں پھول کھِلا کرتے تھے
آنکھ وہ جھیل، جہاں اوس پڑی رہتی ہے
یاد کرنے کا کوئی وقت مقرر ہے بھلا؟
یہ مصیبت تو مِرے سر پہ کھڑی رہتی ہے
تُو نے گر دور سے آواز لگانی تھی مجھے
کوچ سے قبل ہی یہ بات بتانی تھی مجھے
میں تِرے نام کی تسبیح کیا کرتا تھا
ہجر تھا دوست تِرا، جان بچانی تھی مجھے
تیرے ہونے سے ہی آیا ہے یقیں دنیا پر
ورنہ ہر بات یہاں، صرف کہانی تھی مجھے
جہان رقص کُناں ہے کہ دُھن محبت ہے
نظامِ دہر کا پہلا شگُن محبت ہے
تمہیں یقینِ محبت نہیں ہے، حیرت ہے
خدا کا حکم محبت ہے، کُن محبت ہے
ہم اہلِ عشق زمانے کے کام کے تو نہیں
ہمارے پاس فقط ایک گُن محبت ہے
دیکھ یہ کیا کیا اُداسی میں
کھو دیا حوصلہ اداسی میں
آنکھ تجھ سے ہٹی تو سب منظر
کھو گئے با خدا اداسی میں
جا کے دریا ملا سمندر سے
دشت پھرتا رہا اداسی میں
کبھی تو صبح کبھی رات کو بدل ڈالا
کسی کی یاد نے لمحات کو بدل ڈالا
ہم اپنی اپنی جگہ پر قیام کر نہ سکے
مدار کھو کے مقامات کو بدل ڈالا
اسے پتا تھا مِرے ساتھ مسئلہ کیا ہے
سو مسکرا کے مِری بات کو بدل ڈالا
دریا ہوں، سمندر ہوں، کنارہ ہی نہیں میں
جیسا ہوں تِرے سامنے ویسا ہی نہیں میں
دنیا ہے مِری آنکھ میں اک خواب کی صورت
اور خواب بھی ایسا ہے کہ دِکھتا ہی نہیں میں
گر تُو بھی مِرا بن نہ سکا ہے تو عجب کیا
وہ حشر کا عالم ہے کہ اپنا ہی نہیں میں
شعر مجھ سے کبھی تخلیق نہیں ہوتا تھا
بن تِرے کچھ بھی یہاں ٹھیک نہیں ہوتا تھا
روشنی غار سے نکلی تو نظر آیا تُو
ورنہ ہم سا کوئی زندیق نہیں ہوتا تھا
اے حسیں شخص عجب بات نہیں ہے تو مِرے
دل میں ہوتے ہوئے نزدیک نہیں ہوتا تھا
دکھتا ہے صاف صاف کہ کب تک ہے روشنی
جب تک وہ میرے ساتھ ہے تب تک ہے روشنی
اِس کہکشاں سے دور بھی ہونی ہے کہکشاں
اِس آسماں سے دور بھی سب تک ہے روشنی
روشن نہیں ہُوا میں کبھی بھیک مانگ کر
تب تک مِرا وجود ہے، جب تک ہے روشنی
ناحق دشت میں آ کر ہم نے خود پر وحشت طاری کی
نہ تو رب کو راضی رکھا، نہ ہی دُنیا داری کی
کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کھڑکی کے اس پار ہے کیا
کون ہٹائے آنکھ سے پردہ، دور ہو کیسے تاریکی
وقت کا پہیہ دوڑ رہا ہے، سورج ڈوبنے والا ہے
تُو نے کتنے دیپ بنائے، رات کی کیا تیاری کی؟
جستجو چھوڑ کے تقدیر کے پیچھے بھاگے
کتنے نادان تھے ہر پیر کے پیچھے بھاگے
آپ گر نیند سے جاگے تھے صدا دے دیتے
ہم یونہی خواب میں تعبیر کے پیچھے بھاگے
ساتھ چھوٹا ہے مگر آس نہیں ٹوٹی ہے
اس نے چھوڑا ہے تو تدبیر کے پیچھے بھاگے
کاسہ ہے مرے ہاتھ میں شمشیر نہیں ہے
لیکن یہ مِری آخری تصویر نہیں ہے
اس اسم کو پڑھنے سے ملی ہے یہ رعایت
زنداں میں مِرے پاؤں ہیں، زنجیر نہیں ہے
ہم دونوں، کنارے پہ کھڑے ڈوب رہے ہیں
اے کاتبِ تقدیر! کیا تدبیر نہیں ہے؟