Showing posts with label راشد علی. Show all posts
Showing posts with label راشد علی. Show all posts

Thursday, 3 August 2023

سرائے دار کا اتنا کوئی ادھار نہ تھا

 سرائے دار کا اتنا کوئی اُدھار نہ تھا 

مگر وہ خواب مجھے یوں بھی سازگار نہ تھا 

مِری شعاع اندھیرے میں کام آئی مجھے 

مِرا کسی کے چراغوں پہ انحصار نہ تھا

تمہارے واسطے وہ کام بھی کیے میں نے 

وہ کام جن پہ مِرا کوئی اختیار نہ تھا

Friday, 22 April 2022

عشق صحرا میں وہ آداب سکھا دیتا ہے

 عشق صحرا میں وہ آداب سکھا دیتا ہے

راستہ آپ ہی منزل کا پتا دیتا ہے

ساتویں سمت کہیں آپ کے ہونے کا گماں

دشتِ امکاں میں نئے پھول کِھلا دیتا ہے

خالی کاسے کی طرف دیکھ کے ہنسنے والو

یہ فقیر آپ کو جینے کی دعا دیتا ہے

Friday, 19 March 2021

نیند مشکل سے فقط ایک گھڑی رہتی ہے

 نیند مشکل سے فقط ایک گھڑی رہتی ہے

پھر مِری آنکھ میں خوابوں کی لڑی رہتی ہے

دل وہ صحرا ہے جہاں پھول کھِلا کرتے تھے

آنکھ وہ جھیل، جہاں اوس پڑی رہتی ہے

یاد کرنے کا کوئی وقت مقرر ہے بھلا؟

یہ مصیبت تو مِرے سر پہ کھڑی رہتی ہے

Thursday, 18 March 2021

تو نے گر دور سے آواز لگانی تھی مجھے

 تُو نے گر دور سے آواز لگانی تھی مجھے

کوچ سے قبل ہی یہ بات بتانی تھی مجھے

میں تِرے نام کی تسبیح کیا کرتا تھا

ہجر تھا دوست تِرا، جان بچانی تھی مجھے

تیرے ہونے سے ہی آیا ہے یقیں دنیا پر

ورنہ ہر بات یہاں، صرف کہانی تھی مجھے

Saturday, 13 March 2021

جہان رقص کناں ہے کہ دھن محبت ہے

 جہان رقص کُناں ہے کہ دُھن محبت ہے

نظامِ دہر کا پہلا شگُن محبت ہے 

تمہیں یقینِ محبت نہیں ہے، حیرت ہے

خدا کا حکم محبت ہے، کُن محبت ہے

ہم اہلِ عشق زمانے کے کام کے تو نہیں

ہمارے پاس فقط ایک گُن محبت ہے 

Wednesday, 10 March 2021

دیکھ یہ کیا کیا اداسی میں

 دیکھ یہ کیا کیا اُداسی میں

کھو دیا حوصلہ اداسی میں

آنکھ تجھ سے ہٹی تو سب منظر

کھو گئے با خدا اداسی میں

جا کے دریا ملا سمندر سے

دشت پھرتا رہا اداسی میں

Tuesday, 9 March 2021

کبھی تو صبح کبھی رات کو بدل ڈالا

 کبھی تو صبح کبھی رات کو بدل ڈالا 

کسی کی یاد نے لمحات کو بدل ڈالا 

ہم اپنی اپنی جگہ پر قیام کر نہ سکے 

مدار کھو کے مقامات کو بدل ڈالا 

اسے پتا تھا مِرے ساتھ مسئلہ کیا ہے

سو مسکرا کے مِری بات کو بدل ڈالا

Saturday, 6 March 2021

دریا ہوں سمندر ہوں کنارہ ہی نہیں میں

 دریا ہوں، سمندر ہوں، کنارہ ہی نہیں میں 

جیسا ہوں تِرے سامنے ویسا ہی نہیں میں 

دنیا ہے مِری آنکھ میں اک خواب کی صورت 

اور خواب بھی ایسا ہے کہ دِکھتا ہی نہیں میں

گر تُو بھی مِرا بن نہ سکا ہے تو عجب کیا

وہ حشر کا عالم ہے کہ اپنا ہی نہیں میں

Friday, 5 March 2021

شعر مجھ سے کبھی تخلیق نہیں ہوتا تھا

 شعر مجھ سے کبھی تخلیق نہیں ہوتا تھا 

بن تِرے کچھ بھی یہاں ٹھیک نہیں ہوتا تھا 

روشنی غار سے نکلی تو نظر آیا تُو 

ورنہ ہم سا کوئی زندیق نہیں ہوتا تھا 

اے حسیں شخص عجب بات نہیں ہے تو مِرے

دل میں ہوتے ہوئے نزدیک نہیں ہوتا تھا

دکھتا ہے صاف صاف کہ کب تک ہے روشنی

 دکھتا ہے صاف صاف کہ کب تک ہے روشنی

جب تک وہ میرے ساتھ ہے تب تک ہے روشنی

اِس کہکشاں سے دور بھی ہونی ہے کہکشاں

اِس آسماں سے دور بھی سب تک ہے روشنی

روشن نہیں ہُوا میں کبھی بھیک مانگ کر

تب تک مِرا وجود ہے، جب تک ہے روشنی

Thursday, 4 March 2021

ناحق دشت میں آ کر ہم نے خود پر وحشت طاری کی

 ناحق دشت میں آ کر ہم نے خود پر وحشت طاری کی 

نہ تو رب کو راضی رکھا، نہ ہی دُنیا داری کی 

کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کھڑکی کے اس پار ہے کیا

کون ہٹائے آنکھ سے پردہ، دور ہو کیسے تاریکی

وقت کا پہیہ دوڑ رہا ہے، سورج ڈوبنے والا ہے

تُو نے کتنے دیپ بنائے، رات کی کیا تیاری کی؟

Wednesday, 3 March 2021

جستجو چھوڑ کے تقدیر کے پیچھے بھاگے

 جستجو چھوڑ کے تقدیر کے پیچھے بھاگے 

کتنے نادان تھے ہر پیر کے پیچھے بھاگے 

آپ گر نیند سے جاگے تھے صدا دے دیتے 

ہم یونہی خواب میں تعبیر کے پیچھے بھاگے 

ساتھ چھوٹا ہے مگر آس نہیں ٹوٹی ہے 

اس نے چھوڑا ہے تو تدبیر کے پیچھے بھاگے

Saturday, 23 January 2021

کاسہ ہے مرے ہاتھ میں شمشیر نہیں ہے

 کاسہ ہے مرے ہاتھ میں شمشیر نہیں ہے

لیکن یہ مِری آخری تصویر نہیں ہے

اس اسم کو پڑھنے سے ملی ہے یہ رعایت

زنداں میں مِرے پاؤں ہیں، زنجیر نہیں ہے

ہم دونوں، کنارے پہ کھڑے ڈوب رہے ہیں

اے کاتبِ تقدیر! کیا تدبیر نہیں ہے؟