تُو نے گر دور سے آواز لگانی تھی مجھے
کوچ سے قبل ہی یہ بات بتانی تھی مجھے
میں تِرے نام کی تسبیح کیا کرتا تھا
ہجر تھا دوست تِرا، جان بچانی تھی مجھے
تیرے ہونے سے ہی آیا ہے یقیں دنیا پر
ورنہ ہر بات یہاں، صرف کہانی تھی مجھے
اس سے پہلے تو چراغوں سے دھواں اُٹھتا تھا
پھر یہ سیکھا کہ ہوا ساتھ جلانی تھی مجھے
ایک تو وقت بِتانا تھا تِرے ساتھ کہیں
اور کوئی دلرُبا تصویر بنانی تھی مجھے
میں نے ہر یاد تِری دل سے لگائی ہوئی ہے
یہ اذیت تو بہر حال اُٹھانی تھی مجھے
ہنس کے جینے کی سہولت تھی غنیمت راشد
زندگی اس نے عطا کی ہے، نبھانی تھی مجھے
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment