کھُلیں کِواڑ تو سب رونما ہو سینے سے
جو حشر مجھ میں بپا ہے کئی مہینے سے
نفیس ہاتھ ستاروں کی مانگ کرتے ہیں
یہ جوف پُر نہیں ہو گا کسی نگینے سے
پھر ایک اور تمنا کی آنکھ بند ہوئی
پھر ایک بار بدن تھک چکا ہے جینے سے
گزار آئے وہ بیداد گری رقص میں ہم
وہ دل پہ زخم لگاتا ہے اس قرینے سے
حسنین آفندی
No comments:
Post a Comment