Showing posts with label عائشہ غازی. Show all posts
Showing posts with label عائشہ غازی. Show all posts

Thursday, 20 May 2021

اے کاش کبھی تو نے اک جنم لیا ہوتا

 دھڑکن میں سِلا شکوہ


اے کاش کبھی تُو نے

اک جنم لیا ہوتا

تُو بھی کسی وحشت کی

مٹی سے گُندھا ہوتا

یہ درد کبھی تیری

دھڑکن میں سِلا ہوتا

Sunday, 25 April 2021

چپ کیوں ہو

 چپ کیوں ہو؟


ہوا

تم جانتی ہو سب

کہ میں نے رات کے پچھلے پہر

چپکے سے ساری داستاں تم کو سنائی تھی

تمہیں ‌تو یاد ہی ہو گا

Tuesday, 6 April 2021

در نبی پہ کوئی سوالی قلم کو تھامے ہوئے کھڑا ہوا ہے

 سوالی


درِ نبیﷺ پہ کوئی سوالی

قلم کو تھامے ہوئے کھڑا ہوا ہے

یہ سوچتا ہے کہ ایسے الفاظ کون سے ہوں

جو تاجدارِ حرم کے شایان ہونے پائیں

قلم جو مدحِ نبیﷺ کی جرأت کرے تو کیسے

Saturday, 3 April 2021

جو خواب ہم نے اٹھائے ہیں اپنے کاندھوں پر

 فرار


جو خواب ہم نے اٹھائے ہیں اپنے کاندھوں پر

ہم ان کے بوجھ سے آزاد ہو نہیں سکتے

ہم اپنی زیست پہ ہنستے ہیں اس لیے شاید

کہ اپنی موت پہ ہم خود تو رو نہیں سکتے


عائشہ غازی

روز محشر ملا وہ جب مجھ سے

 نظر آ لباس مجاز میں


روز محشر ملا وہ جب مجھ سے

میں کہوں گی؛ "سنو مِرے مالک

میرے سجدوں میں جاگنے والے

میری آنکھیں ترس گئیں تم کو

دو گھڑی خود کو دیکھ لینے دو

Friday, 2 April 2021

سنو سوچوں کے آنگن میں کبھی جھانکوں تو لگتا ہے

آخری حد

 سنو

سوچوں کے آنگن میں کبھی جھانکوں تو لگتا ہے

میرے خوابوں کو اپنی گود میں لے کر

گماں کی انگلیاں

یونہی ذرا الجھی ہوئی زلفوں کو اپنے لمس سے

مخمل بناتی ہوں