دھڑکن میں سِلا شکوہ
اے کاش کبھی تُو نے
اک جنم لیا ہوتا
تُو بھی کسی وحشت کی
مٹی سے گُندھا ہوتا
یہ درد کبھی تیری
دھڑکن میں سِلا ہوتا
دھڑکن میں سِلا شکوہ
اے کاش کبھی تُو نے
اک جنم لیا ہوتا
تُو بھی کسی وحشت کی
مٹی سے گُندھا ہوتا
یہ درد کبھی تیری
دھڑکن میں سِلا ہوتا
چپ کیوں ہو؟
ہوا
تم جانتی ہو سب
کہ میں نے رات کے پچھلے پہر
چپکے سے ساری داستاں تم کو سنائی تھی
تمہیں تو یاد ہی ہو گا
سوالی
درِ نبیﷺ پہ کوئی سوالی
قلم کو تھامے ہوئے کھڑا ہوا ہے
یہ سوچتا ہے کہ ایسے الفاظ کون سے ہوں
جو تاجدارِ حرم کے شایان ہونے پائیں
قلم جو مدحِ نبیﷺ کی جرأت کرے تو کیسے
فرار
جو خواب ہم نے اٹھائے ہیں اپنے کاندھوں پر
ہم ان کے بوجھ سے آزاد ہو نہیں سکتے
ہم اپنی زیست پہ ہنستے ہیں اس لیے شاید
کہ اپنی موت پہ ہم خود تو رو نہیں سکتے
عائشہ غازی
نظر آ لباس مجاز میں
روز محشر ملا وہ جب مجھ سے
میں کہوں گی؛ "سنو مِرے مالک
میرے سجدوں میں جاگنے والے
میری آنکھیں ترس گئیں تم کو
دو گھڑی خود کو دیکھ لینے دو
آخری حد
سنو
سوچوں کے آنگن میں کبھی جھانکوں تو لگتا ہے
میرے خوابوں کو اپنی گود میں لے کر
گماں کی انگلیاں
یونہی ذرا الجھی ہوئی زلفوں کو اپنے لمس سے
مخمل بناتی ہوں