Friday, 2 April 2021

سنو سوچوں کے آنگن میں کبھی جھانکوں تو لگتا ہے

آخری حد

 سنو

سوچوں کے آنگن میں کبھی جھانکوں تو لگتا ہے

میرے خوابوں کو اپنی گود میں لے کر

گماں کی انگلیاں

یونہی ذرا الجھی ہوئی زلفوں کو اپنے لمس سے

مخمل بناتی ہوں

تو یوں لگتا ہے جیسے

دھڑکنیں بھی رک کے اک پَل مسکراتی ہوں

سنو

میں اپنے خوابوں پر

تمہارے مرمریں احساس کی اک اوڑھنی تانے

تمہیں پلکوں کے پردے کے تلے

آنکھوں میں ہی سی لوں؟

سنو

میں زندگی کی آخری حد تک یہیں جی لوں؟


عائشہ غازی

No comments:

Post a Comment