کوئی مُرسل یا دُعا یا کوئی آیت بھی اُتار
لشکرِ عشق کے حصے کی حمایت بھی اتار
تُو محبت کا طرف دار، یقین است، یقیں
پر تُو بندے سے محبت کی روایت بھی اتار
کب کہاں کون سی منزل پہ اسے دھڑکا ہو
دل دیا ہے تو درِ دل پہ ہدایت بھی اتار
میں ہوں تمہید کا قائل مِرے مالک مجھ پر
شعر کہنے سے پہل شعر کی غایت بھی اتار
یا تُو اس عشقِ مجازی کو پرے رکھ مجھ سے
یا کسی طور تمنا پہ عنایت بھی اتار
عابد عباس کاظمی
No comments:
Post a Comment