Showing posts with label ندیم سرسوی. Show all posts
Showing posts with label ندیم سرسوی. Show all posts

Monday, 5 October 2026

آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

 آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

خاک اڑاتی ساتھ میں زندہ غیرت کی اک لاش بھی گزری

 کوچہ بہ کوچہ قریہ بہ قریہ پشتِ خمیدہ سے جکڑی

طوق و سلاسل کے ہمراہ زنجیر بھی شور مچاتی گزری

لاکھوں تماشائی آنکھوں کے بیچ جھکا کر اپنا سر

بے مقنع تصویر حیا کی آنکھ سے خون بہاتی گزری 

Thursday, 25 December 2025

نوید آئی ہے نکلا ہے اشتہار ظہور

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نوید آئی ہے، نکلا ہے اشتہار ظہور

کہ آنے والا ہے غیبت سے شہ سوار ظہور

مزاج ان کی زیارت سے اتنا بدلا ہے

خزاں بھی ہو گئی ہم مشرب بہار ظہور

جو رکھ کے گھومتے ہیں سر پہ بانیان ستم

وہ تاج روند کے رکھ دے تاجدار ظہور

Thursday, 22 August 2024

جبین انجم و ماہتاب جس بندے نے کی روشن

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جبینِ انجم و ماہتاب جس بندے نے کی روشن

اسی کے  ذکر سے ہوتا ہے ذہن آدمی روشن

اُدھر اُس نور پیکر نے فقط جھاڑا تھا دامن کو

اِدھر مٹی پہ خود ہونے لگے تارے کئی روشن

ہمارے پاس اک ایسا دُعاؤں کا صحیفہ ہے

دلوں کے ساتھ جو کر دے خِرد کی ہر گلی روشن

Monday, 19 August 2024

میں فلسطین ہوں اس دور کے آوارہ مزاج

 میں فلسطین ہوں اس دور کے آوارہ مزاج

طنز کستے ہیں مِرے جسم کی عُریانی پر

مِرے قدموں سے زمیں چھیننے والے مردود

ہنستے رہتے ہیں مِری بے سر و سامانی پر

ٹھیک ہے میری طرف رُخ ہے تِرے تیروں کا

ٹھیک ہے دہر میں مجھ سا کوئی مظلوم نہیں

Saturday, 2 October 2021

شعور عشق ملے روئے دار رقص کروں

 شعور عشق ملے روئے دار رقص کروں

ہیں میرے پاس بہانے ہزار رقص کروں

گلوئے خشک کی شہ رگ تھک کے کہتی ہے

کچھ اور تیز ہو خنجر کی دھار رقص کروں

طواف خانۂ دلدار گر نصیب نہیں

خود اپنے دل کا بنا کر مزار رقص کروں

Thursday, 30 September 2021

مستقل محو غم عہد گزشتہ ہونا

مستقل محوِ غمِ عہدِ گزشتہ ہونا

ایسے ہونے سے تو بہتر ہے نہ دل کا ہونا

میں ہوں انساں مجھے انسان ہی رہنے دیجے

مت سکھائیں مجھے ہر گام فرشتہ ہونا

دیکھنی پڑتی ہیں ہر موڑ پہ اُدھڑی لاشیں

کتنا دُشوار ہے اس شہر میں بِینا ہونا

Wednesday, 29 September 2021

سراب دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوں

 سرابِ دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوں

میں ایک عمر سے اپنے خلاف جا رہا ہوں

یقین و شک کی عجب کیفیت سے ہوں دو چار

بچھا رہا ہوں مصلیٰ کبھی اٹھا رہا ہوں

مِرا غرور ہے یہ خاک زادگی میری

میں پھر فرشتو تمہیں بات یہ بتا رہا ہوں

Tuesday, 28 September 2021

دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا

 دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا؟

وہ پاگل پھر مِرا ہو جائے گا کیا

لہو تازہ زمیں پر تُھوکنے سے

جنُوں کا حق ادا ہو جائے گا کیا

یہ دل بیت الشرف ہے حادثوں کا

یہ دل مسکن تِرا ہو جائے گا کیا

Sunday, 18 April 2021

میرے کشکول میں بس سکہ رد ہے حد ہے

 میرے کشکول میں بس سِکۂ رد ہے، حد ہے

پھر بھی یہ دل مِرا راضی بہ مدد ہے، حد ہے

غم تو ہیں بخت کے بازار میں موجود بہت

کیسۂ جسم میں دل ایک عدد ہے، حد ہے

آج کے دور کا انسان عجب ہے یا رب

لب پہ تعریف ہے سینے میں حسد ہے، حد ہے