جام آنکھوں سے اپنی پلا ساقیا
جام ایسا کہ آئے مزا ساقیا
لب ترسنے لگے مے کی جب پیاس کو
مے کدے میں تِرے آ گیا ساقیا
مجھ کو ہے پیاس بس تیرے ہی عشق کی
پیاس آ کر مِری تو بجھا ساقیا ہے
جام آنکھوں سے اپنی پلا ساقیا
جام ایسا کہ آئے مزا ساقیا
لب ترسنے لگے مے کی جب پیاس کو
مے کدے میں تِرے آ گیا ساقیا
مجھ کو ہے پیاس بس تیرے ہی عشق کی
پیاس آ کر مِری تو بجھا ساقیا ہے
کر کے اپنا خسارہ بیٹھا ہوں
تیری راہ میں دوبارہ بیٹھا ہوں
تُو نے مجھ کو بُھلا دیا کب کا
بن کے اب بھی تمہارا بیٹھا ہوں
تیری شادی بھی ہو گئی کب کی
میں ابھی تک کنوارا بیٹھا ہوں
ستم گر کنارا کیے جا رہے ہو
یہ نقصان ہمارا کیے جا رہے ہو
یہ نظریں اٹھا کر کدھر دیکھتے ہو
یہ کس کو اشارا کیے جا رہے ہو
ہوا کیا ہے تجھ کو مجھے بھی بتاؤ
یہ منہ کیوں بچارا کیے جا رہے ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حقیقت میں زمانے پر حکومت کون کرتا ہے
عطا سارے زمانے میں ہدایت کون کرتا ہے
اگر تجھ کو زمانے سے محبت مل نہیں پاتی
تو ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کون کرتا ہے
مصیبت جب بھی آتی ہے مجھے کچھ بھی نہیں ہوتا
میں جب مشکل میں ہوتا ہوں حمایت کون کرتا ہے