طلسم توڑتے ہیں خواب سے نِکالتے ہیں
رقیب کو تِرے گرداب سے نکالتے ہیں
پرندے صرف یہاں مستفید ہوتے نہیں
ہم اپنا رزق بھی تالاب سے نکالتے ہیں
ہمیں بُجھانے کی سازش میں تُو بھی شامل تھا
تُجھے بھی حلقۂ احباب سے نکالتے ہیں
زبان سے کبھی اظہار ہو نہیں سکتا
یہ شعر ہم دلِ بے تاب سے نکالتے ہیں
تِرے خلاف تِرا زہر کام آئے گا
دوا مرض کے ہی اسباب سے نکالتے ہیں
خُدا سے ہم نے بھی کرنی ہیں سینکڑوں باتیں
اب اس کو منبر و محراب سے نکالتے ہیں
خُود اپنے کندھے پہ بندوق رکھ کے لڑتے نہیں
ہم اپنی دُھن تِرے مِضراب سے نکالتے ہیں
مِرا پتہ مِرے یاروں سے پوچھنا گوتم
معانی لفظ کے اعراب سے نکالتے ہیں
گوتم ملتانی
No comments:
Post a Comment