Friday, 30 October 2026

رشتوں کو جب دھوپ دکھائی جاتی ہے

 رِشتوں کو جب دُھوپ دِکھائی جاتی ہے

سِگریٹ سے سِگریٹ سُلگائی جاتی ہے

جِسم ہمارا اک ایسی مِل ہے جس میں

اندھیاروں سے دُھوپ بنائی جاتی ہے

نا سے اس کی شکل مِلانے لگتا ہوں

جب اس کی آواز سُنائی جاتی ہے

پتھر لے کر آتے ہیں سب سینے میں

بھاگ جگے تو ٹھوکر کھائی جاتی ہے

خاموشی سے یکجا کرتے ہیں خُود کو

شور مچا کر آگ بُجھائی جاتی ہے

ہوتے ہوتے روشن ہوتا ہے چہرہ

جاتے جاتے دل سے کائی جاتی ہے

دونوں بھوؤں کی شِکنیں ہاتھ بٹاتی ہیں

اپنی تیسری آنکھ بنائی جاتی ہے


انکت گوتم

No comments:

Post a Comment