چلو تمہیں
اس جہاں سے کہیں دُور لے چلوں
جہاں صرف چاہتوں کی بارش ہو
محبتوں کا نزول ہو
شہروز احمد
چلو تمہیں
اس جہاں سے کہیں دُور لے چلوں
جہاں صرف چاہتوں کی بارش ہو
محبتوں کا نزول ہو
شہروز احمد
دل چاہتا ہے
تمہاری آنکھوں پہ کچھ لکھ سکوں
مگر لکھوں کیسے
کہ میرے پاس نہ تتلیوں جیسے رنگ ہیں
نہ سفید موتیوں جیسے الفاظ
اور نہ سیف الملوک جیسی ٹھنڈک
تخیل
تخیل میں ہمیشہ تمہیں
سفید بگھی سے اترتے دیکھا ہے
تم پہ ہزاروں پھول برسائے
تمہارے ہاتھ چومے ہیں
شہنائیاں
میرے موسم مکمل کر جاؤ
کبھی وہ سنتا تو میں کہتا
تم بِن میں ادھورا، میرا تن من ادھورا ہے
تم بِن میرے سارے موسم نامکمل
بادل بارش، دسمبر کی دُھند بھری راتیں
سب ادھورے ہیں
تمہاری مسکراہٹ
تمہاری مسکراہٹ کے بارے کیا لکھوں
کہ میری ہزار نظمیں بھی وہ سب کچھ نہیں کہہ سکتیں
جو، فقط تمہاری مسکراہٹ کہہ دیتی ہے
میری جان نثار ہنستی ہو تو
میرے لیے باقی ساری دنیا بلَر ہو جاتی ہے
صرف محبت ہوا کرے
کاش
کوئی ایسا شہر ذات بھی ہوا کرے
جہاں قسمتوں کا کوئی رپھڑ نہیں ہو
ہماری خواہشوں پہ سب ہوا کرے
صرف محبت ہوا کرے
محبتیں رزق ہوتی ہیں
سنا ہے تمہارے دل کے سبھی رستوں پہ گرد سی جمی ہے
تم نے جذبات کو گہری نیند سلا رکھا ہے
محبتوں سے منہ موڑ رکھا ہے
مگر اے معصوم سی گڑیا
پت جھڑ ہمیشہ تھوڑی رہتے ہیں
تیرے بغیر
روحِ من
بادل، بارش، ٹھنڈی ہوائیں
تیرے بغیر
صرف موسم ہیں
شہروز احمد