Showing posts with label شہروز احمد. Show all posts
Showing posts with label شہروز احمد. Show all posts

Thursday, 14 April 2022

چلو تمہیں اس جہاں سے کہیں دور لے چلوں

 چلو تمہیں

اس جہاں سے کہیں دُور لے چلوں 

جہاں صرف چاہتوں کی بارش ہو

محبتوں کا نزول ہو


شہروز احمد

Monday, 11 April 2022

تمہاری آنکھوں پہ کچھ لکھ سکوں

 دل چاہتا ہے

تمہاری آنکھوں پہ کچھ لکھ سکوں

مگر لکھوں کیسے

کہ میرے پاس نہ تتلیوں جیسے رنگ ہیں

نہ سفید موتیوں جیسے الفاظ

اور نہ سیف الملوک جیسی ٹھنڈک

Monday, 31 January 2022

تخیل میں ہمیشہ تمہیں دیکھا

 تخیل


تخیل میں ہمیشہ تمہیں 

سفید بگھی سے اترتے دیکھا ہے

تم پہ ہزاروں پھول برسائے

تمہارے ہاتھ چومے ہیں

شہنائیاں

Sunday, 30 January 2022

میرے سارے موسم مکمل کر جاؤ

 میرے موسم مکمل کر جاؤ


کبھی وہ سنتا تو میں کہتا

تم بِن میں ادھورا، میرا تن من ادھورا ہے

تم بِن میرے سارے موسم نامکمل

بادل بارش، دسمبر کی دُھند بھری راتیں 

سب ادھورے ہیں

Saturday, 22 January 2022

تمہاری مسکراہٹ کے بارے کیا لکھوں

 تمہاری مسکراہٹ 

 

تمہاری مسکراہٹ کے بارے کیا لکھوں 

کہ میری ہزار نظمیں بھی وہ سب کچھ نہیں کہہ سکتیں 

جو، فقط تمہاری مسکراہٹ کہہ دیتی ہے

 میری جان نثار ہنستی ہو تو

میرے لیے باقی ساری دنیا بلَر ہو جاتی ہے

Thursday, 30 December 2021

صرف محبت ہوا کرے صرف تم ہوا کرو

 صرف محبت ہوا کرے


کاش

کوئی ایسا شہر ذات بھی ہوا کرے

جہاں قسمتوں کا کوئی رپھڑ نہیں ہو

ہماری خواہشوں پہ سب ہوا کرے

صرف محبت ہوا کرے

Wednesday, 29 December 2021

محبتیں رزق ہوتی ہیں پہنچ کے رہتی ہیں

 محبتیں رزق ہوتی ہیں


سنا ہے تمہارے دل کے سبھی رستوں پہ گرد سی جمی ہے

تم نے جذبات کو گہری نیند سلا رکھا ہے

محبتوں سے منہ موڑ رکھا ہے

مگر اے معصوم سی گڑیا

پت جھڑ ہمیشہ تھوڑی رہتے ہیں

Sunday, 1 August 2021

تیرے بغیر صرف موسم ہیں

 تیرے بغیر


روحِ من

بادل، بارش، ٹھنڈی ہوائیں 

تیرے بغیر

صرف موسم ہیں


شہروز احمد