Showing posts with label بدر عالم خلش. Show all posts
Showing posts with label بدر عالم خلش. Show all posts

Tuesday, 30 June 2026

قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھا

 قدموں سے اتنا دُور کنارہ کبھی نہ تھا

نا قابلِ عبُور یہ دریا کبھی نہ تھا

تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا

لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا

ہے ذکر یار کیوں شبِ زِنداں سے دُور دُور

اے ہم نشیں! یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا

Saturday, 6 December 2025

نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی

 نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی

لہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگی

ہوا وہ جشن کہ نیزے بلند ہونے لگے

نیام تیغ کی خنجر کے ساتھ سونے لگی

جہاں میں دوڑ کے پہنچا تھا وہ گھنیری چھاؤں

ذرا سی دیر میں زار و قطار رونے لگی

Tuesday, 3 September 2024

چپ تھے جو بت سوال بہ لب بولنے لگے

 چپ تھے جو بت سوال بہ لب بولنے لگے

ٹھہرو کہ قوس برق و لہب بولنے لگے

ویرانیوں میں ساز طرب بولنے لگے

جیسے لہو میں آب عنب بولنے لگے

اک رشتہ احتیاج کا سو روپ میں ملا

سو ہم بھی اب بہ طرز طلب بولنے لگے

Friday, 8 January 2021

دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھ

 دمک اٹھی ہے فضا ماہتابِ خواب کے ساتھ

دھڑک رہا ہے یہ دل کس ربابِ خواب کے ساتھ

ہٹے غبار جو لو سے تو میری جوت جگے

جلوں میں پھر سے نئی آب و تابِ خواب کے ساتھ

ہے سو اداؤں سے عریاں فریبِ رنگِ انا

برہنہ ہوتی ہے لیکن حجابِ خواب کے ساتھ