قدموں سے اتنا دُور کنارہ کبھی نہ تھا
نا قابلِ عبُور یہ دریا کبھی نہ تھا
تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا
لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا
ہے ذکر یار کیوں شبِ زِنداں سے دُور دُور
اے ہم نشیں! یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا
قدموں سے اتنا دُور کنارہ کبھی نہ تھا
نا قابلِ عبُور یہ دریا کبھی نہ تھا
تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا
لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا
ہے ذکر یار کیوں شبِ زِنداں سے دُور دُور
اے ہم نشیں! یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا
نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی
لہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگی
ہوا وہ جشن کہ نیزے بلند ہونے لگے
نیام تیغ کی خنجر کے ساتھ سونے لگی
جہاں میں دوڑ کے پہنچا تھا وہ گھنیری چھاؤں
ذرا سی دیر میں زار و قطار رونے لگی
چپ تھے جو بت سوال بہ لب بولنے لگے
ٹھہرو کہ قوس برق و لہب بولنے لگے
ویرانیوں میں ساز طرب بولنے لگے
جیسے لہو میں آب عنب بولنے لگے
اک رشتہ احتیاج کا سو روپ میں ملا
سو ہم بھی اب بہ طرز طلب بولنے لگے
دمک اٹھی ہے فضا ماہتابِ خواب کے ساتھ
دھڑک رہا ہے یہ دل کس ربابِ خواب کے ساتھ
ہٹے غبار جو لو سے تو میری جوت جگے
جلوں میں پھر سے نئی آب و تابِ خواب کے ساتھ
ہے سو اداؤں سے عریاں فریبِ رنگِ انا
برہنہ ہوتی ہے لیکن حجابِ خواب کے ساتھ