کہیں بم دھماکے، کہیں زلزلے
اے خُدا کب رُکیں گے یہ سلسلے
کہیں عمل مکافات ہیں
کہیں قُدرتی آفات ہیں
بشر پر آئی ہیں وہ سختیاں
پناہ مانگتے آدم زاد ہیں
کہیں بم دھماکے، کہیں زلزلے
اے خُدا کب رُکیں گے یہ سلسلے
کہیں عمل مکافات ہیں
کہیں قُدرتی آفات ہیں
بشر پر آئی ہیں وہ سختیاں
پناہ مانگتے آدم زاد ہیں
محبت کی کتاب
زندگی کے نصاب میں
محبت کی اک کتاب ہے
اس کے ایک ایک صفحے پر میری وفا درج ہے
تم کو گر فُرصت ملے تو اس کو ضرور پڑھ لینا
بوسیدہ سا ایک ورق ہے
بے ربط سی تحریر ہے
برسوں بعد تجھ سے ملاقات خوب رہی
وصل کی از سرِ نو شروعات خوب رہی
ایک چھتری، برستا ساون، تُو اور میں
کل شب جو برسی برسات، خوب رہی
تیرے دل کی گُفتگو میری دھڑکن نے سنی
خاموشی میں ہوئی جو بات خوب رہی
خود فریبی
میرے بستر پر
نیند رکھی ہے
بس ذرا بستر پر جاؤں
تو سو جاؤں گی
یہی سوچ کر روز