کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور؟
مجھ سا نہیں ملے گا تجھے غمگسار اور
جس کی طلب تھی مجھ کو وہی تو نہیں ملا
ویسے تو زندگی میں ملے بے شُمار اور
ممکن نہیں ہے زندہ رہوں اب کی بار میں
دشمن کا وار اور ہے، یاروں کا وار اور
میں جس کے نقشِ پا کو سمجھتا رہا چراغ
اس شخص نے کیا ہے مجھے سوگوار اور
پلکوں پہ اپنے اشکِ ندامت کو روک کر
بس کر لیا ہے ہجر میں اک دن شمار اور
کیونکر تِری طرف کوئی مائل نہ ہو گا دوست
سب کی پُکار اور ہے، تیری پُکار اور
شِکوہ بھلا کسی سے بھی باقر میں کیوں کروں
قسمت میں جب لِکھا ہے مِری؛ انتظار اور
حماد باقر
No comments:
Post a Comment