Friday, 19 June 2026

بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک

 بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک

اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک

جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے

چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک

رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر

کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک

ٹوٹتے بجلی کے ٹکڑے چاند تارے روٹھتے

آسماں سے دور رنگ آسمانی دیر تک

مسکرا کر موند لیں آنکھیں حنا یہ کیا ہوا

یاد آئی کیا تجھے پھر وہ کہانی دیر تک


ڈاکٹر حنانہ برجیس

No comments:

Post a Comment