اے سایۂ شب، نالۂ سفاک بند ہو
نیندوں کی کھلی جاتی ہے پیچاک بند ہو
معمارِ ہوا ایسا بھی زِندان بناؤ
جس خاک سے آنکھیں ہوئیں نمناک، بند ہو
تشکیل نہ دے حلیۂ سفاک، ٹھہر جا
اب رہنِ سِتم رقص ہوا، چاک بند ہو
چہروں کو پرکھنے کا ہُنر کھو دیا ہم نے
خوشرنگیٔ دوراں، یہ دُھواں، خاک بند ہو
قارون بنائے ہے زمینوں کو ٹھکانہ
وہ کیا کرے، جس پہ درِ افلاک بند ہو
ساحل پہ تھکے ماندے بدن سوئے ہوئے ہیں
اے آبِ رواں! شورشِ بے باک بند ہو
رہبر سلطانی
No comments:
Post a Comment