ہر اک خیال سے آگے ہر اک نگاہ سے دُور
مِرا مقام محبت ہے رسم و راہ سے دور
فُغاں سے دور ہوں، نالے سے دور، آہ سے دور
میں آج تک ہوں محبت کے ہر گُناہ سے دور
ہزار طرح اُٹھی ہے نگاہِ اہلِ ہوس
ہوا نہ حُسن مگر عشق کی پناہ سے دور
مذاقِ دید میں شاید کچھ آ گئی خامی
تڑپ رہی ہے نظر ان کی جلوہ گاہ سے دور
بنے ہوئے ہیں مِرے پائے شوق کی زینت
کیے تھے میں جو کانٹے وفا کی راہ سے دور
نہ توڑ آس شبِ غم گُزارنے والے
نہیں سحر کا اُجالا شب سیاہ سے دور
اسے نہ چشمِ حقارت سے دیکھ اے دنیا
گُناہ گارِ محبت ہے ہر گُناہ سے دور
خلش بڑودوی
No comments:
Post a Comment