Showing posts with label اویس علی. Show all posts
Showing posts with label اویس علی. Show all posts

Friday, 30 December 2022

یہ کیسا عیب مرے شہر کو لگا ہوا ہے

 یہ کیسا عیب مِرے شہر کو لگا ہوا ہے

جسے بھی دیکھیے وہ ہی خدا بنا ہوا ہے

یہ جس کے قرب پہ تُو بار بار اترائے

وہ حسن کل ہی مِرے عشق سے رہا ہوا ہے

اسے تو میں نے سکھایا تھا کیسے چلتے ہیں

وہ شخص جو کہ تِرا حوصلہ بنا ہوا ہے

Sunday, 27 February 2022

یہ مانتے ہیں فلک بے ردا نہیں ہوئے ہیں

 یہ مانتے ہیں فلک، بے ردا نہیں ہوئے ہیں

زمیں کے لوگ ابھی ماجرا نہیں ہوئے ہیں

بدن کا ذائقہ کیسا ہے ہم کو کیا معلوم

کسی کے لمس سے ہم آشنا نہیں ہوئے ہیں

ہم ایسے لوگ سدا انتہا پہ کام آئے

ہم ایسے لوگ کبھی ابتداء نہیں ہوئے ہیں

Wednesday, 2 February 2022

گلہ نہیں ہے گلہ نہیں ہے

 گلہ نہیں ہے


اگر وہ خوش پوش میری خواہش میں اک زرا مبتلا نہیں ہے

گلہ نہیں ہے

اگر دعاؤں کی دستکوں سے بھی بابِ نعمت کھلا نہیں ہے

گلہ نہیں ہے

اگر بدن پر مہیب زخموں کا منہ کھلا ہے سِلا نہیں ہے

Saturday, 8 January 2022

مدینے والے آقا آپ کے قدموں میں دو عالم کی کنجی

 التجا


مدینے والے آقاﷺ

آپﷺ کے قدموں میں دو عالم کی کنجی ہے

مِرا ایمان ہے

دنیا کی ساری روشنی بس آپﷺ کے 

کاکل کی اک ادنٰی جھلک سے فیض پاتی ہے

Tuesday, 9 November 2021

زندگی چل رہی ہے

 زندگی چل رہی ہے


میرے بستر پر نیند کی کالی مٹی کے 

چند ذرات باقی بچے ہیں

باقی کی ساری مٹی امن کی خاطر جنگ میں

مرنے والے سپاہیوں کی قبروں پر ڈال آیا ہوں

تاکہ وہ ایک گہری نیند لیں 

Thursday, 29 July 2021

رندوں کے اس جہان سے نکلا ہوا ہوں میں

 رندوں کے اس جہان سے نکلا ہوا ہوں میں

یعنی تِرے گمان سے نکلا ہوا ہوں میں

اک دشت کر رہا ہے مِری دیکھ بھال یار

اک شخص کی امان سے نکلا ہوا ہوں میں

تُو کہہ رہا ہے یار کا ہی در گیا ہے بس

مجھ کو لگے جہان سے نکلا ہوا ہوں میں

Saturday, 17 July 2021

میں یہ کہتا ہوں کہ لمحوں میں سمٹ سکتی ہے

 میں یہ کہتا ہوں کہ لمحوں میں سمٹ سکتی ہے

یہ اداسی تو تِری کال سے چھٹ سکتی ہے

اے مِری جان کے دشمن! تُو ذرا اور ٹھہر

تیرگی گھات میں ہے جا کے پلٹ سکتی ہے

شب کو ہر حال میں سونا بھی ضروری تو نہیں

رات بس رات ہے آنکھوں میں بھی کٹ سکتی ہے

Thursday, 8 July 2021

سیاہ رات میں تارے سوال کرتے ہیں

 سیاہ رات میں تارے سوال کرتے ہیں

بچھڑ کے تجھ سے یہ سارے سوال کرتے ہیں

اجل کے بعد کیا دو پَل سکوں میسر ہے؟

کہ رزمِ زیست کے مارے سوال کرتے ہیں

وہ تیرا ہجر بھی ملنے پہ مطمئن کیوں ہے؟

جو تجھ کو جیت کے ہارے، سوال کرتے ہیں

Wednesday, 30 June 2021

اب نہ آئے گا دلربا پیارے

 اب نہ آئے گا دلربا پیارے

حرفِ بیکار ہے صدا پیارے

تُو ہے خورشید اک نئے دن کا

میں فقط شب کا ہوں دِیا پیارے

درد پہلے بھی یہ سنائے ہیں

اور لایا ہے کچھ نیا پیارے؟

Sunday, 20 June 2021

ہم کسی کی حسرت نہیں

 ہم کون ہیں؟


ہم کسی کی حسرت نہیں

کہ پوری نہ ہونے پر اس کا جیون

مکمل ہو کر بھی ادھورا رہے

ہم وہ خواب ہیں

جو ٹوٹنے پر

Friday, 18 June 2021

مفلسی کا تماشا ہے اور بے بسی کی نمائش

 ناہوت


مفلسی کا تماشا ہے

اور بے بسی کی نمائش کے ہر اک ٹکٹ پر لکھا ہے

کہ اس زندگی میں کوئی اک جھمیلہ نہیں

سینکڑوں ہیں

یہاں کسمساتے ہوئے جسم 

فاقہ کشی کے مظالم کی ہر داستاں

Saturday, 12 June 2021

خواب نگر کے علاوہ تمہارے سامنے بیٹھ کر

 لیکن 

خواب نگر کے علاوہ 

تمہارے سامنے بیٹھ کر

تمہاری شاہی آنکھوں کو تکتے ہوئے

باتیں کرنا ناممکن ہے


اویس علی

Wednesday, 5 May 2021

قدیم دکھ ہے بغیر تیرے نہ شب ڈھلی ہے

قدیم دُکھ ہے

 بغیر تیرے نہ شب ڈھلی ہے

نہ دن ہوا ہے

نہ شاخِ لمحات پر خوشی کا ثمر لگا ہے

عقیم رُت ہے

اُداس آنکھیں

Saturday, 1 May 2021

چھوٹی بچی سسکتی رہی رات بھر

 غلاظت بھرے معاشرے کی عکاس نظم


چھوٹی بچی سسکتی رہی رات بھر

درد ایسا تھا جو جینے دیتا نہ تھا، جان لیتا نہ تھا

اس کو کچی سی عمروں میں ادراک تو ہو گیا تھا

کہ یہ ٹافیاں مُفت ملتی نہیں ہیں

ہر اک شے کی قیمت ہے، مخصوص قیمت

سو وہ درد سے بِلبلاتی رہی

Tuesday, 6 April 2021

ایک شاعر تری محبت میں

 ذہنی فتور


ایک شاعر تِری محبت میں

دن کو نظمیں نئی تراشے تو

دِیپ غزلوں کے شب جلائے تو

زیرِ ہذیاں تجھے پکارے گر

چیخنے لگ پڑے؛ محبت ہے

پھر بھی ذہنی فتور سمجھو گی؟

Thursday, 4 February 2021

میرے کمرے میں چند بے تکی نظمیں

 میرے کمرے میں

چند بے تکی نظمیں 

کچھ بے ربط غزلیں 

ایک آخری بچا سگریٹ 

جگجیت سنگھ کی گائی غزلوں کی ایک سی ڈی

ایک آدھا ادھورا بچا ہوا میں 

Saturday, 5 December 2020

وصیت میں کھلی آنکھ سے موت کو دیکھتا ہوں

 وصیت


میں نے بائیس برس ایک ہی آرزو اپنے سینے میں پالی

مجھے آرمی جوائن کرنا ہے ہر حال میں

لوگ ہنستے رہے

لاڈلے تم کہاں اور یونٹ کی لائف کہاں؟

تم سے شہزادوں کا خم تو پہلی دھلائی پہ پتلی گلی سے نکل جاتا ہے