یہ کیسا عیب مِرے شہر کو لگا ہوا ہے
جسے بھی دیکھیے وہ ہی خدا بنا ہوا ہے
یہ جس کے قرب پہ تُو بار بار اترائے
وہ حسن کل ہی مِرے عشق سے رہا ہوا ہے
اسے تو میں نے سکھایا تھا کیسے چلتے ہیں
وہ شخص جو کہ تِرا حوصلہ بنا ہوا ہے
یہ کیسا عیب مِرے شہر کو لگا ہوا ہے
جسے بھی دیکھیے وہ ہی خدا بنا ہوا ہے
یہ جس کے قرب پہ تُو بار بار اترائے
وہ حسن کل ہی مِرے عشق سے رہا ہوا ہے
اسے تو میں نے سکھایا تھا کیسے چلتے ہیں
وہ شخص جو کہ تِرا حوصلہ بنا ہوا ہے
یہ مانتے ہیں فلک، بے ردا نہیں ہوئے ہیں
زمیں کے لوگ ابھی ماجرا نہیں ہوئے ہیں
بدن کا ذائقہ کیسا ہے ہم کو کیا معلوم
کسی کے لمس سے ہم آشنا نہیں ہوئے ہیں
ہم ایسے لوگ سدا انتہا پہ کام آئے
ہم ایسے لوگ کبھی ابتداء نہیں ہوئے ہیں
گلہ نہیں ہے
اگر وہ خوش پوش میری خواہش میں اک زرا مبتلا نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
اگر دعاؤں کی دستکوں سے بھی بابِ نعمت کھلا نہیں ہے
گلہ نہیں ہے
اگر بدن پر مہیب زخموں کا منہ کھلا ہے سِلا نہیں ہے
التجا
مدینے والے آقاﷺ
آپﷺ کے قدموں میں دو عالم کی کنجی ہے
مِرا ایمان ہے
دنیا کی ساری روشنی بس آپﷺ کے
کاکل کی اک ادنٰی جھلک سے فیض پاتی ہے
زندگی چل رہی ہے
میرے بستر پر نیند کی کالی مٹی کے
چند ذرات باقی بچے ہیں
باقی کی ساری مٹی امن کی خاطر جنگ میں
مرنے والے سپاہیوں کی قبروں پر ڈال آیا ہوں
تاکہ وہ ایک گہری نیند لیں
رندوں کے اس جہان سے نکلا ہوا ہوں میں
یعنی تِرے گمان سے نکلا ہوا ہوں میں
اک دشت کر رہا ہے مِری دیکھ بھال یار
اک شخص کی امان سے نکلا ہوا ہوں میں
تُو کہہ رہا ہے یار کا ہی در گیا ہے بس
مجھ کو لگے جہان سے نکلا ہوا ہوں میں
میں یہ کہتا ہوں کہ لمحوں میں سمٹ سکتی ہے
یہ اداسی تو تِری کال سے چھٹ سکتی ہے
اے مِری جان کے دشمن! تُو ذرا اور ٹھہر
تیرگی گھات میں ہے جا کے پلٹ سکتی ہے
شب کو ہر حال میں سونا بھی ضروری تو نہیں
رات بس رات ہے آنکھوں میں بھی کٹ سکتی ہے
سیاہ رات میں تارے سوال کرتے ہیں
بچھڑ کے تجھ سے یہ سارے سوال کرتے ہیں
اجل کے بعد کیا دو پَل سکوں میسر ہے؟
کہ رزمِ زیست کے مارے سوال کرتے ہیں
وہ تیرا ہجر بھی ملنے پہ مطمئن کیوں ہے؟
جو تجھ کو جیت کے ہارے، سوال کرتے ہیں
اب نہ آئے گا دلربا پیارے
حرفِ بیکار ہے صدا پیارے
تُو ہے خورشید اک نئے دن کا
میں فقط شب کا ہوں دِیا پیارے
درد پہلے بھی یہ سنائے ہیں
اور لایا ہے کچھ نیا پیارے؟
ہم کون ہیں؟
ہم کسی کی حسرت نہیں
کہ پوری نہ ہونے پر اس کا جیون
مکمل ہو کر بھی ادھورا رہے
ہم وہ خواب ہیں
جو ٹوٹنے پر
ناہوت
مفلسی کا تماشا ہے
اور بے بسی کی نمائش کے ہر اک ٹکٹ پر لکھا ہے
کہ اس زندگی میں کوئی اک جھمیلہ نہیں
سینکڑوں ہیں
یہاں کسمساتے ہوئے جسم
فاقہ کشی کے مظالم کی ہر داستاں
لیکن
خواب نگر کے علاوہ
تمہارے سامنے بیٹھ کر
تمہاری شاہی آنکھوں کو تکتے ہوئے
باتیں کرنا ناممکن ہے
اویس علی
قدیم دُکھ ہے
بغیر تیرے نہ شب ڈھلی ہے
نہ دن ہوا ہے
نہ شاخِ لمحات پر خوشی کا ثمر لگا ہے
عقیم رُت ہے
اُداس آنکھیں
غلاظت بھرے معاشرے کی عکاس نظم
چھوٹی بچی سسکتی رہی رات بھر
درد ایسا تھا جو جینے دیتا نہ تھا، جان لیتا نہ تھا
اس کو کچی سی عمروں میں ادراک تو ہو گیا تھا
کہ یہ ٹافیاں مُفت ملتی نہیں ہیں
ہر اک شے کی قیمت ہے، مخصوص قیمت
سو وہ درد سے بِلبلاتی رہی
ذہنی فتور
ایک شاعر تِری محبت میں
دن کو نظمیں نئی تراشے تو
دِیپ غزلوں کے شب جلائے تو
زیرِ ہذیاں تجھے پکارے گر
چیخنے لگ پڑے؛ محبت ہے
پھر بھی ذہنی فتور سمجھو گی؟
میرے کمرے میں
چند بے تکی نظمیں
کچھ بے ربط غزلیں
ایک آخری بچا سگریٹ
جگجیت سنگھ کی گائی غزلوں کی ایک سی ڈی
ایک آدھا ادھورا بچا ہوا میں
وصیت
میں نے بائیس برس ایک ہی آرزو اپنے سینے میں پالی
مجھے آرمی جوائن کرنا ہے ہر حال میں
لوگ ہنستے رہے
لاڈلے تم کہاں اور یونٹ کی لائف کہاں؟
تم سے شہزادوں کا خم تو پہلی دھلائی پہ پتلی گلی سے نکل جاتا ہے