Saturday, 17 July 2021

میں یہ کہتا ہوں کہ لمحوں میں سمٹ سکتی ہے

 میں یہ کہتا ہوں کہ لمحوں میں سمٹ سکتی ہے

یہ اداسی تو تِری کال سے چھٹ سکتی ہے

اے مِری جان کے دشمن! تُو ذرا اور ٹھہر

تیرگی گھات میں ہے جا کے پلٹ سکتی ہے

شب کو ہر حال میں سونا بھی ضروری تو نہیں

رات بس رات ہے آنکھوں میں بھی کٹ سکتی ہے

ضبط بھی اپنی جگہ ہے مگر اے خاموشی

اتنا مت چیخ کہ شریان بھی پھٹ سکتی ہے

ایسی منہ زور اداسی ہے مِرے کمرے میں

جو تِری یاد کا تختہ بھی اُلٹ سکتی ہے


اویس علی

No comments:

Post a Comment