Showing posts with label مدحت الاختر. Show all posts
Showing posts with label مدحت الاختر. Show all posts

Thursday, 31 March 2022

شاید مری فریاد سنائی نہیں دیتی

 شاید مِری فریاد سنائی نہیں دیتی

قدرت جو مجھے حکم رہائی نہیں دیتی

تھا پہلے بہت شورِ نہاں خانۂ دل میں

اب تو کوئی سسکی بھی سنائی نہیں دیتی

خوابوں کی تجارت میں یہی ایک کمی ہے

چلتی ہے دُکاں خوب، کمائی نہیں دیتی

Wednesday, 14 April 2021

جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

 جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا

وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں

جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا

تِرے ماتھے پہ مِرا نام چمکتا تھا کبھی

ان دنوں کی کوئی پہچان پرانی دے جا

Saturday, 3 April 2021

جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

 جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا

وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں

جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا

تِرے ماتھے پہ مِرا نام چمکتا تھا کبھی

ان دنوں کی کوئی پہچان پرانی دے جا

Tuesday, 22 August 2017

درد آنسو نہیں بنتا سو تبسم تو بنے

درد آنسو نہیں بنتا سو تبسم تو بنے
کوئی پیرایۂ آغاز تکلم تو بنے
ہے طبیعت میں سکوت ازلی حیرت سا
اس سمندر کی کوئی موج تلاطم تو بنے
کون منظور کرے نام کی دریا بخشی
میں سبو تک نہ بھروں گا کوئی قلزم تو بنے

دکان اور کی ہے اختیار اس کا ہے

دکان اور کی ہے، اختیار اس کا ہے
بہت دنوں سے یہی کاروبار اس کا ہے
بس اس کے نام کا سِکہ ڈھلا نہیں، ورنہ
وزیر اس کے ہیں سب شہریار اس کا ہے
کسی سے کچھ نہیں کہتا سوائے حرفِ دعا
اسی ادا سے ہنر آشکار اس کا ہے

اچھا اگر نہیں تو برا مان لے مجھے

اچھا اگر نہیں تو برا مان لے مجھے
بہتر یہی ہے تو ابھی پہچان لے مجھے
چہرہ بدل لیا ہے رقیبوں کے خوف سے
ایسا نہ ہو کہ پھر کوئی پہچان لے مجھے
انسان ہوں خطاؤں کا پتلا, خیال رکھ
میں نے یہ کب کہا کہ خدا مان لے مجھے

بہت دنوں سے یہی ہو رہا ہے آج ہی کیا

بہت دنوں سے یہی ہو رہا ہے آج ہی کیا
پلک جھپکتے بدل جائے تو سماج ہی کیا
نظر جھکا کے مگر سر اٹھا کے چلتے تھے
رہا نہ شہر کی گلیوں میں وہ رواج ہی کیا
لگائے بیٹھے رہو دوربین آنکھوں سے
ہمارے دیدہ ورو! تم کو کام کاج ہی کیا

Sunday, 28 May 2017

شاید مری لے اس کو سنائی نہیں دیتی

شاید مِری لے اس کو سنائی نہیں دیتی
کیوں میری انا مجھ کو رہائی نہیں دیتی
تھا پہلے بہت شور نہاں خانۂ دل میں
اب تو کوئی سِسکی بھی سنائی نہیں دیتی
خوابوں کی تجارت میں یہی ایک کمی ہے
چلتی ہے دکاں خوب، کمائی نہیں دیتی

وہ اب کبھی نہ ملے گا یقین سا کیوں ہے

وہ اب کبھی نہ ملے گا یقین سا کیوں ہے
یہ انتظار کا گھر بے مکین سا کیوں ہے
بسے بسائے ہوئے ہیں یہ گھر زمانوں کے
نظارہ ان کا نئی سر زمین سا کیوں ہے
نہ اس کے حسن کا ثانی نہ اس کی فطرت کا
وہ بے مثال سہی بے یقین سا کیوں ہے

ہم کہاں غیر کا احسان لیا کرتے ہیں

ہم کہاں غیر کا احسان لیا کرتے ہیں
ہاں عزیزوں کا کہا مان لیا کرتے ہیں
دشت سے لا کے بٹھا دیتے ہیں گھر میں ہر دم
شہر والے مجھے پہچان لیا کرتے ہیں
ہم تخیل سے بناتے ہیں خود اپنے قصے
بس تِرے عشق سے عنوان لیا کرتے ہیں

مانا کہ تری ہم نفسی اور ہی کچھ ہے

مانا کہ تِری ہم نفسی اور ہی کچھ ہے
لیکن مِری دنیا میں کمی اور ہی کچھ ہے
ہر آن بدلتے ہوئے منظر نے دکھایا
کچھ اور ابھی تھا جو ابھی اور ہی کچھ ہے
ہم خیر سے دنیا کو بناتے رہے جنت
اب غور سے دیکھا تو بنی اور ہی کچھ ہے

Friday, 9 December 2016

آگ پوری کہاں بجھی ہے ابھی

آگ پوری کہاں بجھی ہے ابھی
دیدۂ تر میں تشنگی ہے ابھی
دوستوں سے چکا رہا ہوں حساب
دشمنوں سے کہاں ٹھنی ہے ابھی
دوست کہہ کر مجھے نہ دے گالی
دل پہ اک زخمِ دوستی ہے ابھی

ستارے توڑ کے دیتا ہے آفتاب مجھے

ستارے توڑ کے دیتا ہے آفتاب مجھے
دکھا رہا ہے وہ چہرہ عجیب خواب مجھے
میں ایک قطرۂ شبنم ہوں دامنِ گل پر
اٹھاۓ سیکڑوں نیزوں سے آفتاب مجھے
میں اپنے آپ میں پہلے تو یوں اسیر نہ تھا
ملا ہے کب کے گناہوں کا یہ عذاب مجھے

Sunday, 10 May 2015

تشنگی اپنی بجھانے کے لیے جب گئے ہیں

تشنگی اپنی بجھانے کے لیے جب گئے ہیں
دَشت بے چارے سمندر کے تَلے دَب گئے ہیں
کوچ کرنے کی گھڑی ہے، مگر اے ہمسفرو
ہم ادھر جا نہیں سکتے جدھر سب گئے ہیں
غیر شائستۂ آدابِ 💗محبت💗 نہ سہی
ہم تِرے ہِجر کے آزار میں مر کب گئے ہیں

میں تو سایہ ہوں گھٹاؤں سے اترنے والا

میں تو سایہ ہوں گھٹاؤں سے اترنے والا
ہے کوئی پیاس کے صحرا سے گزرنے والا
تُو سمجھتا ہے مجھے حرفِ مکرّر، لیکن
میں صحیفہ ہوں تِرے دل پہ اترنے والا
تُو مجھے اپنی ہی آواز کا پابند نہ کر
میں تو نغمہ ہوں فضاؤں میں بِکھرنے والا