شاید مِری فریاد سنائی نہیں دیتی
قدرت جو مجھے حکم رہائی نہیں دیتی
تھا پہلے بہت شورِ نہاں خانۂ دل میں
اب تو کوئی سسکی بھی سنائی نہیں دیتی
خوابوں کی تجارت میں یہی ایک کمی ہے
چلتی ہے دُکاں خوب، کمائی نہیں دیتی
شاید مِری فریاد سنائی نہیں دیتی
قدرت جو مجھے حکم رہائی نہیں دیتی
تھا پہلے بہت شورِ نہاں خانۂ دل میں
اب تو کوئی سسکی بھی سنائی نہیں دیتی
خوابوں کی تجارت میں یہی ایک کمی ہے
چلتی ہے دُکاں خوب، کمائی نہیں دیتی
جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا
روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا
وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں
جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا
تِرے ماتھے پہ مِرا نام چمکتا تھا کبھی
ان دنوں کی کوئی پہچان پرانی دے جا
جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا
روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا
وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں
جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا
تِرے ماتھے پہ مِرا نام چمکتا تھا کبھی
ان دنوں کی کوئی پہچان پرانی دے جا