Wednesday, 14 April 2021

جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

 جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا

وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں

جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا

تِرے ماتھے پہ مِرا نام چمکتا تھا کبھی

ان دنوں کی کوئی پہچان پرانی دے جا

جس کی آغوش میں کٹ جائیں ہزاروں راتیں

میری تنہائی کو چھُو کر وہ کہانی دے جا

رکھ نہ محروم خود اپنی ہی رفاقت سے مجھے

آئینہ مجھ کو دکھا دے مِرا ثانی دے جا


مدحت الاختر

No comments:

Post a Comment