الفت کا جس کو روگ لگا وہ بچا نہیں
یہ درد ہے وہ درد کہ جس کی دوا نہیں
مہر و وفا نہیں ہیں کہ صبر و رضا نہیں
ہم افقروں کے کیسۂ خاکی میں کیا نہیں
بیمار کے نہ زخم پہ ظالم نمک چھڑک
نرگس سے چھیڑ اچھی یہ بادِ صبا نہیں
الفت کا جس کو روگ لگا وہ بچا نہیں
یہ درد ہے وہ درد کہ جس کی دوا نہیں
مہر و وفا نہیں ہیں کہ صبر و رضا نہیں
ہم افقروں کے کیسۂ خاکی میں کیا نہیں
بیمار کے نہ زخم پہ ظالم نمک چھڑک
نرگس سے چھیڑ اچھی یہ بادِ صبا نہیں
تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے
سر افلاک نیا بابِ قمر کھولا ہے
ڈھل گیا دن بھی وہیں رات نے ڈیرا ڈالا
تھک کے رہرو نے جہاں رخت سفر کھولا ہے
میرے چپ رہنے پہ بھی بات وہاں تک پہنچی
رازِ دل تُو نے مگر دیدۂ تر کھولا ہے
اگر نہ درد سے اس دل کو آشنا کرتے
غمِ حیات کا کس طرح تجزیہ کرتے
خدا نخواستہ کشتی جو ڈوبنے لگتی
سوا خدا کے بھلا کیا یہ ناخدا کرتے
عجب نہیں تھا کہ آ جاتا ہوش میں بیمار
قریب آ کے جو دامن سے وہ ہوا کرتے
کچھ شمع سے پوچھو نہ شبِ تار سے پوچھو
کیا ہجر میں بیتی؟ یہ دلِ زار سے پوچھو
سوسن سے نہ کچھ نرگسِ بیمار سے پوچھو
تاراجیٔ گلشن کا سبب، خار سے پوچھو
زحمت نہ دو ایسے میں نہ بیمار سے پوچھو
کیا حال ہے یہ نبض کی رفتار سے پوچھو
پیار کا کاروبار کرتا ہوں
سب کو دنیا میں پیار کرتا ہوں
خود پہ میں اعتبار کرتا ہوں
پیار کرتا تھا، پیار کرتا ہوں
آہ بے اختیار کرتا ہوں
یاد جب اس کا پیار کرتا ہوں