Showing posts with label ماہر بلگرامی. Show all posts
Showing posts with label ماہر بلگرامی. Show all posts

Monday, 28 February 2022

الفت کا جس کو روگ لگا وہ بچا نہیں

 الفت کا جس کو روگ لگا وہ بچا نہیں

یہ درد ہے وہ درد کہ جس کی دوا نہیں

مہر و وفا نہیں ہیں کہ صبر و رضا نہیں

ہم افقروں کے کیسۂ خاکی میں کیا نہیں

بیمار کے نہ زخم پہ ظالم نمک چھڑک

نرگس سے چھیڑ اچھی یہ بادِ صبا نہیں

Wednesday, 5 January 2022

تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے

 تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے

سر افلاک نیا بابِ قمر کھولا ہے

ڈھل گیا دن بھی وہیں رات نے ڈیرا ڈالا

تھک کے رہرو نے جہاں رخت سفر کھولا ہے

میرے چپ رہنے پہ بھی بات وہاں تک پہنچی

رازِ دل تُو نے مگر دیدۂ تر کھولا ہے

Sunday, 26 December 2021

اگر نہ درد سے اس دل کو آشنا کرتے

 اگر نہ درد سے اس دل کو آشنا کرتے

غمِ حیات کا کس طرح تجزیہ کرتے

خدا نخواستہ کشتی جو ڈوبنے لگتی

سوا خدا کے بھلا کیا یہ ناخدا کرتے

عجب نہیں تھا کہ آ جاتا ہوش میں بیمار

قریب آ کے جو دامن سے وہ ہوا کرتے

Saturday, 25 December 2021

کچھ شمع سے پوچھو نہ شب تار سے پوچھو

 کچھ شمع سے پوچھو نہ شبِ تار سے پوچھو

کیا ہجر میں بیتی؟ یہ دلِ زار سے پوچھو

سوسن سے نہ کچھ نرگسِ بیمار سے پوچھو

تاراجیٔ گلشن کا سبب، خار سے پوچھو

زحمت نہ دو ایسے میں نہ بیمار سے پوچھو

کیا حال ہے یہ نبض کی رفتار سے پوچھو

Friday, 24 September 2021

پیار کا کاروبار کرتا ہوں

 پیار کا کاروبار کرتا ہوں

سب کو دنیا میں پیار کرتا ہوں

خود پہ میں اعتبار کرتا ہوں

پیار کرتا تھا، پیار کرتا ہوں

آہ بے اختیار کرتا ہوں

یاد جب اس کا پیار کرتا ہوں