Wednesday, 5 January 2022

تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے

 تیرے دیوانے نے دیوار میں در کھولا ہے

سر افلاک نیا بابِ قمر کھولا ہے

ڈھل گیا دن بھی وہیں رات نے ڈیرا ڈالا

تھک کے رہرو نے جہاں رخت سفر کھولا ہے

میرے چپ رہنے پہ بھی بات وہاں تک پہنچی

رازِ دل تُو نے مگر دیدۂ تر کھولا ہے

ہم کبھی تہہ سے سمندر کے ہیں موتی لائے

کبھی پرچم سر مہ سینہ سپر کھولا ہے

در شبنم مہ و انجم ہیں کبھی جلوہ فروش

کس نے گنجینہ یہ ہر شام و سحر کھولا ہے

کوہکن بن کے کبھی ہم نے برنگ مجنوں

عشق کا باب بہ انداز دگر کھولا ہے

حسد و حرص و ہوس ایسے کئی چور ملے

میں نے چپ چاپ کبھی اپنا جو گھر کھولا ہے

سیکڑوں خواہشوں کی ناگنیں ڈسنے کو بڑھیں

ہم نے جب بھی در گنجینۂ زر کھولا ہے

جس کو دیکھو وہی وارفتۂ منزل ہے یہاں

واہ کیا مکتبۂ فکر و نظر کھولا ہے

کس کو فرصت جو سنے تیری کہانی ماہر

دفتر اک شکوؤں کا یہ تُو نے مگر کھولا ہے


ماہر بلگرامی

No comments:

Post a Comment