ہم بنے کس لیے
یہ جو غوغا ہے سانسوں میں
کچھ دیر اگر
تھم گیا تو سکوں سے
کہیں لیٹ کر
دیکھتے خواب بھی
منظروں سے پرے
اپنے جیسا کوئی ڈھونڈتے
جانکنی کے مراحل سے آگے چلے
دن کی اُلجھن سناتے
بتاتے اُسے
رات کے مسئلے
پوچھتے بے گھری کا سبب
اور یہ بھی کہ ہاتھوں پہ
اتنی لکیروں کا مطلب ہے کیا
کچھ بھی مرضی مطابق تو ہوتا نہیں
ایسی بیزاری ہے
چارہ گر کیا ملا
سکھ میں تو ملتے ہیں
مسکرا کر سبھی
دکھ ہو تو کوئی بھی ساتھ روتا نہیں
رشتے اور راستے
اتنے بل کھائے ہیں
اب سکت ہی نہیں
کاش یہ جان پاتے کبھی
ہم بنے کس لیے
سلیم شہزاد
No comments:
Post a Comment