Wednesday, 5 January 2022

کاش یہ جان پاتے کبھی ہم بنے کس لیے

 ہم بنے کس لیے


یہ جو غوغا ہے سانسوں میں

کچھ دیر اگر

تھم گیا تو سکوں سے

کہیں لیٹ کر

دیکھتے خواب بھی

منظروں سے پرے

اپنے جیسا کوئی ڈھونڈتے

جانکنی کے مراحل سے آگے چلے

دن کی اُلجھن سناتے

بتاتے اُسے

رات کے مسئلے

پوچھتے بے گھری کا سبب

اور یہ بھی کہ ہاتھوں پہ

اتنی لکیروں کا مطلب ہے کیا

کچھ بھی مرضی مطابق تو ہوتا نہیں

ایسی بیزاری ہے

چارہ گر کیا ملا

سکھ میں تو ملتے ہیں

مسکرا کر سبھی

دکھ ہو تو کوئی بھی ساتھ روتا نہیں

رشتے اور راستے

اتنے بل کھائے ہیں

اب سکت ہی نہیں

کاش یہ جان پاتے کبھی

ہم بنے کس لیے


سلیم شہزاد

No comments:

Post a Comment