Wednesday, 5 January 2022

سن کے سینے میں ترا سانس اٹک سکتا ہے

 سن کے سینے میں تِرا سانس اٹک سکتا ہے

وہ ہے اک مرد محبت سے بھی تھک سکتا ہے

غصہ کرنے کی اجازت ہے فقط بابا کو

تُو مجھے صرف محبت سے ہی تک سکتا ہے

تجھ سے بچھڑی تو یہ دنیا کہاں مرنے دے گی

تیرا کیا ہے تُو تو پنکھے سے لٹک سکتا ہے

دے نہیں سکتا کبھی گالی بھی اچھا شاعر

وہ تو غصے میں بھی اک شعر ہی بک سکتا ہے

اپنی نیندوں کا پتہ اس کو بتا کر سونا

وہ نیا خواب ہے رستہ بھی بھٹک سکتا ہے

میرے لفظوں پہ جو حاوی ہے تِرے ہجر کا رنگ

میری غزلوں میں فقط درد جھلک سکتا ہے


ناہید اختر بلوچ

No comments:

Post a Comment