Showing posts with label ارشد عبدالحمید. Show all posts
Showing posts with label ارشد عبدالحمید. Show all posts

Sunday, 25 December 2022

بہ ہر طریق اسے مسمار کرتے رہنا ہے

 بہ ہر طریق اسے مسمار کرتے رہنا ہے

کبھی سخن تو کبھی وار کرتے رہنا ہے

دروں کے واسطے دیوار چاہیے جاناں

سو فرش خواب کو دیوار کرتے رہنا ہے

سحر کے معرکۂ نیک و بد سے کیا مطلب

ہمارا کام تو بیدار کرتے رہنا ہے

Monday, 17 October 2022

غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھول کھلے

 غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھول کھلے

مِری نوا سے دیارِ نمو میں پھول کھلے

مِرے ہی شعر اچھالے مِرے حریفوں نے

مِرے طفیل زبان عدو میں پھول کھلے

انہیں یہ زعم کہ بے سود ہے صدائے سخن

ہمیں یہ ضد کہ اسی ہاؤ ہو میں پھول کھلے

Monday, 10 October 2022

ہر سانس جو آتی ہے ستمگار قفس میں

 ہر سانس جو آتی ہے ستم گار قفس میں

کھینچے ہے مِری جان سرِ دار قفس میں

دیکھے بھی تو کیا اپنی مسیحائی کا انجام

جھانکے بھی تو کیا نرگسِ بیمار قفس میں

اطراف ہیں طاقت کے تکبر کی سلاخیں

ظالم ہے خود اپنا ہی گرفتار قفس میں

Sunday, 20 June 2021

ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے

ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے

اسی درخت کے سائے میں گھر بھی کرنا ہے

انا ہی دوست، انا ہی حریف ہے میری

اسی سے جنگ، اسی کو سِپر بھی کرنا ہے

چل آ تجھے کسی محفوظ گھر میں پہنچا دوں

پھر اس کے بعد مجھے تو سفر بھی کرنا ہے

Tuesday, 20 April 2021

غلط نہیں ہے دل صلح خو جو بولتا ہے

غلط نہیں ہے دل صلح خُو جو بولتا ہے

مگر یہ حرفِ بغاوت لہو جو بولتا ہے

مِرے اُجڑنے کی تکمیل کب ہوئی جاناں

درخت یاد کی ٹہنی پہ تو جو بولتا ہے

سرِ سکوتِ عدم کس کے ہونٹ ہلتے ہیں

کوئی تو ہے پسِ دیوار ہو جو بولتا ہے

Wednesday, 30 December 2020

فصیل صبر میں روزن بنانا چاہتی ہے

فصیل صبر میں روزن بنانا چاہتی ہے

سپاہِ طیش مِرے دل کو ڈھانا چاہتی ہے

لپٹ لپٹ کے شجر کو لُبھانا چاہتی ہے

ہر ایک بیل محبت جتانا چاہتی ہے

ریال خواب لُٹاتی ہے دونوں ہاتھوں سے

امیر شوق مجھے آزمانا چاہتی ہے