بہ ہر طریق اسے مسمار کرتے رہنا ہے
کبھی سخن تو کبھی وار کرتے رہنا ہے
دروں کے واسطے دیوار چاہیے جاناں
سو فرش خواب کو دیوار کرتے رہنا ہے
سحر کے معرکۂ نیک و بد سے کیا مطلب
ہمارا کام تو بیدار کرتے رہنا ہے
بہ ہر طریق اسے مسمار کرتے رہنا ہے
کبھی سخن تو کبھی وار کرتے رہنا ہے
دروں کے واسطے دیوار چاہیے جاناں
سو فرش خواب کو دیوار کرتے رہنا ہے
سحر کے معرکۂ نیک و بد سے کیا مطلب
ہمارا کام تو بیدار کرتے رہنا ہے
غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھول کھلے
مِری نوا سے دیارِ نمو میں پھول کھلے
مِرے ہی شعر اچھالے مِرے حریفوں نے
مِرے طفیل زبان عدو میں پھول کھلے
انہیں یہ زعم کہ بے سود ہے صدائے سخن
ہمیں یہ ضد کہ اسی ہاؤ ہو میں پھول کھلے
ہر سانس جو آتی ہے ستم گار قفس میں
کھینچے ہے مِری جان سرِ دار قفس میں
دیکھے بھی تو کیا اپنی مسیحائی کا انجام
جھانکے بھی تو کیا نرگسِ بیمار قفس میں
اطراف ہیں طاقت کے تکبر کی سلاخیں
ظالم ہے خود اپنا ہی گرفتار قفس میں
ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے
اسی درخت کے سائے میں گھر بھی کرنا ہے
انا ہی دوست، انا ہی حریف ہے میری
اسی سے جنگ، اسی کو سِپر بھی کرنا ہے
چل آ تجھے کسی محفوظ گھر میں پہنچا دوں
پھر اس کے بعد مجھے تو سفر بھی کرنا ہے
غلط نہیں ہے دل صلح خُو جو بولتا ہے
مگر یہ حرفِ بغاوت لہو جو بولتا ہے
مِرے اُجڑنے کی تکمیل کب ہوئی جاناں
درخت یاد کی ٹہنی پہ تو جو بولتا ہے
سرِ سکوتِ عدم کس کے ہونٹ ہلتے ہیں
کوئی تو ہے پسِ دیوار ہو جو بولتا ہے
فصیل صبر میں روزن بنانا چاہتی ہے
سپاہِ طیش مِرے دل کو ڈھانا چاہتی ہے
لپٹ لپٹ کے شجر کو لُبھانا چاہتی ہے
ہر ایک بیل محبت جتانا چاہتی ہے
ریال خواب لُٹاتی ہے دونوں ہاتھوں سے
امیر شوق مجھے آزمانا چاہتی ہے