Tuesday, 20 April 2021

غلط نہیں ہے دل صلح خو جو بولتا ہے

غلط نہیں ہے دل صلح خُو جو بولتا ہے

مگر یہ حرفِ بغاوت لہو جو بولتا ہے

مِرے اُجڑنے کی تکمیل کب ہوئی جاناں

درخت یاد کی ٹہنی پہ تو جو بولتا ہے

سرِ سکوتِ عدم کس کے ہونٹ ہلتے ہیں

کوئی تو ہے پسِ دیوار ہو جو بولتا ہے

زمانے تیری حقیقت سمجھ میں آتی ہے

ہوا کی تھاپ سے خالی سبُو جو بولتا ہے

نفاستوں کا قرینہ ہے تیری خاموشی

مگر یہ جیب کا تارِ رفُو جو بولتا ہے

ادھر یہ کان ہیں قہر خزاں جو سنتے ہیں

ادھر وہ پیڑ ہے سحر نمُو جو بولتا ہے

نفس کے جال میں کب قید ہو سکا ارشد

وہ اک پرند فنا کُو بہ کُو جو بولتا ہے


ارشد عبدالحمید

No comments:

Post a Comment