Showing posts with label شاہد اختر. Show all posts
Showing posts with label شاہد اختر. Show all posts

Sunday, 7 November 2021

لب بہ لب ایسا زیاں لفظ و معانی کا ہوا

 لب بہ لب ایسا زیاں لفظ و معانی کا ہوا

کوئی آغاز نہ انجام کہانی کا ہوا

ہم پہ دروازۂ امکان ہوا بند، مگر

کام اشکوں سے بھی پیغام رسانی کا ہوا

کون سنتا تھا تیری آہ و فغاں میرے سوا

کون قائل تِری آشفتہ بیانی کا ہوا

Friday, 1 October 2021

آپ کے اذن ملاقات سے جی ڈرتا ہے

 آپ کے اذنِ ملاقات سے جی ڈرتا ہے

اپنے بدلے ہوئے حالات سے جی ڈرتا ہے

آپ تجدیدِ محبت کا نہ دیجے پیغام

آپ کی چشمِ عنایات سے جی ڈرتا ہے

کل یہ عالم تھا کہ ہر بات پہ ہنس دیتے تھے

اب یہ عالم ہے کہ ہر بات سے جی ڈرتا ہے

Tuesday, 28 September 2021

شب کے آوارہ گرد شہزادے جا چھپے اپنی خوابگاہوں میں

 آس


شب کے آوارہ گرد شہزادے

جا چھپے اپنی خوابگاہوں میں

پڑ گئے ہیں گلابی ڈورے سے

رات کی شبنمی نگاہوں میں

سیم تن اپسراؤں کے جھرمٹ

محوِ پرواز ہیں فضاؤں میں

اس قدر شوخ نگاہوں سے نہ دیکھو مجھ کو

 بازار


اس قدر شوخ نگاہوں سے نہ دیکھو مجھ کو

غیرت حسن پہ الزام نہ آ جائے کہیں

تم نے خود بھی نہیں سمجھا ہے ابھی تک جس کو

لب پہ وہ خواہشِ بے نام نہ آ جائے کہیں

یہ جو معصوم تمنا ہے تمہارے دل میں

کتنی سنگین خطا ہے یہ تمہیں کیا معلوم

Tuesday, 27 July 2021

سجائیں محفل یاراں نہ شغل جام کریں

 سجائیں محفلِ یاراں نہ شغلِ جام کریں

تو اور کیسے تِرے غم کا احترام کریں

کسے بلائیں چناروں میں آدھی رات گئے

اگر کریں تو کسے صبح کا سلام کریں

بسائیں قاف تصور میں اک پری وش کو

کچھ آج عشرتِ ہجراں کا اہتمام کریں

Monday, 16 November 2020

چاند مانگا نہ کبھی ہم نے ستارے مانگے

 چاند مانگا نہ کبھی ہم نے ستارے مانگے

بس وہ دو دن جو ترے ساتھ گزارے مانگے

صرف اک داغ تمنا کے سوا کچھ نہ ملا

دل نے کیا سوچ کے نظروں کے اشارے مانگے

ہم نے جب جام اٹھایا ہے تو وہ یاد آیا

جس کی خاطر مے و مینا کے سہارے مانگے