لب بہ لب ایسا زیاں لفظ و معانی کا ہوا
کوئی آغاز نہ انجام کہانی کا ہوا
ہم پہ دروازۂ امکان ہوا بند، مگر
کام اشکوں سے بھی پیغام رسانی کا ہوا
کون سنتا تھا تیری آہ و فغاں میرے سوا
کون قائل تِری آشفتہ بیانی کا ہوا
لب بہ لب ایسا زیاں لفظ و معانی کا ہوا
کوئی آغاز نہ انجام کہانی کا ہوا
ہم پہ دروازۂ امکان ہوا بند، مگر
کام اشکوں سے بھی پیغام رسانی کا ہوا
کون سنتا تھا تیری آہ و فغاں میرے سوا
کون قائل تِری آشفتہ بیانی کا ہوا
آپ کے اذنِ ملاقات سے جی ڈرتا ہے
اپنے بدلے ہوئے حالات سے جی ڈرتا ہے
آپ تجدیدِ محبت کا نہ دیجے پیغام
آپ کی چشمِ عنایات سے جی ڈرتا ہے
کل یہ عالم تھا کہ ہر بات پہ ہنس دیتے تھے
اب یہ عالم ہے کہ ہر بات سے جی ڈرتا ہے
آس
شب کے آوارہ گرد شہزادے
جا چھپے اپنی خوابگاہوں میں
پڑ گئے ہیں گلابی ڈورے سے
رات کی شبنمی نگاہوں میں
سیم تن اپسراؤں کے جھرمٹ
محوِ پرواز ہیں فضاؤں میں
بازار
اس قدر شوخ نگاہوں سے نہ دیکھو مجھ کو
غیرت حسن پہ الزام نہ آ جائے کہیں
تم نے خود بھی نہیں سمجھا ہے ابھی تک جس کو
لب پہ وہ خواہشِ بے نام نہ آ جائے کہیں
یہ جو معصوم تمنا ہے تمہارے دل میں
کتنی سنگین خطا ہے یہ تمہیں کیا معلوم
سجائیں محفلِ یاراں نہ شغلِ جام کریں
تو اور کیسے تِرے غم کا احترام کریں
کسے بلائیں چناروں میں آدھی رات گئے
اگر کریں تو کسے صبح کا سلام کریں
بسائیں قاف تصور میں اک پری وش کو
کچھ آج عشرتِ ہجراں کا اہتمام کریں
چاند مانگا نہ کبھی ہم نے ستارے مانگے
بس وہ دو دن جو ترے ساتھ گزارے مانگے
صرف اک داغ تمنا کے سوا کچھ نہ ملا
دل نے کیا سوچ کے نظروں کے اشارے مانگے
ہم نے جب جام اٹھایا ہے تو وہ یاد آیا
جس کی خاطر مے و مینا کے سہارے مانگے