Friday, 1 October 2021

آپ کے اذن ملاقات سے جی ڈرتا ہے

 آپ کے اذنِ ملاقات سے جی ڈرتا ہے

اپنے بدلے ہوئے حالات سے جی ڈرتا ہے

آپ تجدیدِ محبت کا نہ دیجے پیغام

آپ کی چشمِ عنایات سے جی ڈرتا ہے

کل یہ عالم تھا کہ ہر بات پہ ہنس دیتے تھے

اب یہ عالم ہے کہ ہر بات سے جی ڈرتا ہے

ہم نشینو! ذرا کچھ دیر مِرے ساتھ رہو

آج تنہائی کے لمحات سے جی ڈرتا ہے

دل میں جب سوزشِ غم آگ لگا دیتی ہے

چشمِ افسردہ کی برسات سے جی ڈرتا ہے

چاہتا ہوں کہ یہ دل شہرِ نگاراں ہو مگر

اتنی رنگینیٔ جذبات سے جی ڈرتا ہے

زخم کچھ اور سُلگ جاتے ہیں دل کے شاہد

اب تو اس تاروں بھری رات سے جی ڈرتا ہے


شاہد اختر

No comments:

Post a Comment