لگتی ہیں ساری کاغذی باتیں
تیری باتیں ہیں عارضی باتیں
تیری باتوں پہ مر گئی تھی میں
دل میں اتری ہیں بس تِری باتیں
زندگی نے نہیں دیا موقع
تجھ سے کرنی تھیں آخری باتیں
جب سے وہ فرد ہم سے روٹھا ہے
ہم سے کرتی ہے خامشی باتیں
جتنا اندر سے خالی ہوتا ہے
اتنا کرتا ہے آدمی باتیں
چاہے تو پارسا ہو کتنا بھی
جگ بنائے گا لازمی باتیں
میرا مالک ہی اب تو سمجھے گا
وہ تو سنتا ہے ان کہی باتیں
تیری باتیں بھی کوئی باتیں ہیں
صرف لگتی ہیں شاعری باتیں
ایک درویش نے دعا دی تو
پھر خدا نے مِری سنی باتیں
صوفیہ سب کو خاک ہونا ہے
خاک ہو جائیں گی تِری باتیں
صوفیہ زاہد
No comments:
Post a Comment