Showing posts with label عظیم انجم. Show all posts
Showing posts with label عظیم انجم. Show all posts

Thursday, 18 April 2024

روح میں درد کا پیوند لگانے والا

 روح میں درد کا پیوند لگانے والا

تیرا ہر خواب ہے پلکوں کو جلانے والا

اک تصور کے سوا رات کے سناٹے میں

کون ہے بند کواڑوں کو ہلانے والا

میری حسرت ہے سلیقے سے کوئی تیر چلے

کیا یہاں کوئی نہیں ٹھیک نشانے والا

Saturday, 2 December 2023

رونے سے کم ہوا نہ ہمارے جگر کا بوجھ

 رونے سے کم ہوا نہ ہمارے جگر کا بوجھ

دامن پہ آ کے ٹھہر گیا چشمِ تر کا بوجھ

کل ہم نے اپنے سر پہ اُٹھا لی تھی کائنات

اُٹھتا نہیں ہے آج مگر اپنے سر کا بوجھ

وہ دُور اپنے بام سے جھانکا ہے پھر کوئی

اب آسماں اُتار کے پھینکے قمر کا بوجھ

Sunday, 26 November 2023

ساتھ چل پڑی تنہا ساتھ رہ گئی تنہا

 ساتھ چل پڑی تنہا ساتھ رہ گئی تنہا

کتنی با وفا نکلی میری بے بسی تنہا

وقت پھر مہرباں ہے کٹ گئے سبھی ساتھی

زندگی کی راہوں میں رہ گیا کوئی تنہا

آپ کی نوازش ہے، آپ کی توجہ سے

سرگراں ہے برسوں سے ایک اجنبی تنہا

Saturday, 25 November 2023

مرے وجود میں پیوست غم کے تیروں کو

 مِرے وجود میں پیوست غم کے تیروں کو

خدا بنائے رکھے ہاتھ کی لکیروں کو

خود اپنے گھر میں نہیں آج عصمتیں محفوظ

نگر کے بیچ بھی خطرہ ہے راہگیروں کو

لہٗو دیا ہے، چلو آج دل بھی دے آئیں

دلوں کی سخت ضرورت ہے کچھ امیروں کو