روح میں درد کا پیوند لگانے والا
تیرا ہر خواب ہے پلکوں کو جلانے والا
اک تصور کے سوا رات کے سناٹے میں
کون ہے بند کواڑوں کو ہلانے والا
میری حسرت ہے سلیقے سے کوئی تیر چلے
کیا یہاں کوئی نہیں ٹھیک نشانے والا
روح میں درد کا پیوند لگانے والا
تیرا ہر خواب ہے پلکوں کو جلانے والا
اک تصور کے سوا رات کے سناٹے میں
کون ہے بند کواڑوں کو ہلانے والا
میری حسرت ہے سلیقے سے کوئی تیر چلے
کیا یہاں کوئی نہیں ٹھیک نشانے والا
رونے سے کم ہوا نہ ہمارے جگر کا بوجھ
دامن پہ آ کے ٹھہر گیا چشمِ تر کا بوجھ
کل ہم نے اپنے سر پہ اُٹھا لی تھی کائنات
اُٹھتا نہیں ہے آج مگر اپنے سر کا بوجھ
وہ دُور اپنے بام سے جھانکا ہے پھر کوئی
اب آسماں اُتار کے پھینکے قمر کا بوجھ
ساتھ چل پڑی تنہا ساتھ رہ گئی تنہا
کتنی با وفا نکلی میری بے بسی تنہا
وقت پھر مہرباں ہے کٹ گئے سبھی ساتھی
زندگی کی راہوں میں رہ گیا کوئی تنہا
آپ کی نوازش ہے، آپ کی توجہ سے
سرگراں ہے برسوں سے ایک اجنبی تنہا
مِرے وجود میں پیوست غم کے تیروں کو
خدا بنائے رکھے ہاتھ کی لکیروں کو
خود اپنے گھر میں نہیں آج عصمتیں محفوظ
نگر کے بیچ بھی خطرہ ہے راہگیروں کو
لہٗو دیا ہے، چلو آج دل بھی دے آئیں
دلوں کی سخت ضرورت ہے کچھ امیروں کو